طلاق کا مسئلہ
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں، اور دونوں مل کر ایک دوسرے کے لیے تکملہ (counterpart) بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن میں طلاق کا ایک مقررہ طریقہ (prescribed course) ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (2:229)۔ یعنی طلاق دو بار ہے، پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا۔ دوسری طرف حدیث میں طلاق کے بارے میں آیا ہے: أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ ۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2018)۔ یعنی خالق کے نزدیک طلاق انتہائی حد تک ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص طلاق پر اصرار کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ مقرر کورس کے مطابقتان مہینوں تک جذبات سے کام لینے کے بجائے خوب سوچے، اور پھر تیسرے مہینے میں عدت کے اختتام پر طلاق کی تکمیل کرے۔ ایسا انسان کو یہ موقع دینے کے لیے کیا گیا کہ وہ آخری حد تک سوچے، اور طلاق صرف اس وقت دے، جب کہ طلاق اس کے لیے سوچے سمجھے فیصلے کے تحت ایک ناگزیر ضرورت بن جائے۔ فطرت کے مطابق، نہ کہ خواہش کے مطابق اس کے لیے کوئی دوسرا آپشن سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ موجودہ زمانے میں طلاق کو لے کر ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ وہ ہے تین طلاق کا مسئلہ۔ تین طلاق کا طریقہ بدعت کا طریقہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیدا ہوا۔ ابتدائی دور کا مسلم معاشرہ اس مبتدعانہ طریقہ سے پاک تھا۔ تین طلاق کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں عبداللہ ابن عباس کی ایک روایت ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ. (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1472)۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader