Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

طلاق کا مسئلہ

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملے میں دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا أَوْ جَمَعَ ظَهْرَهُ . (سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 1073)۔ یعنی عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ طلاق کا معاملہ رسول اللہ کے عہد میں اور ابو بکر کے عہد میں اور عمر کے ابتدائی دوسالوں میں یہ تھا کہ تین طلاق ایک تھی۔ تو عمر بن الخطاب نے کہا کہ لوگ اس معاملہ میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں ان کے لیے جلد بازی نہیں تھی، تو میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کے لیے ایک حکم جاری کر دوں۔ چنانچہ انھوں نے حکم جاری کیا۔ دوسری روایت کے مطابق ، اس حکم کا ایک جز یہ بھی تھا کہ: عمر کے پاس جب ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو (بیک وقت ) تین طلاق دی ہو تو عمر اس کی پیٹھ پر کوڑے مارتے تھے۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین واقع کرنے کا جو عمل کیا، اس کی حیثیت حکم حاکم (executive order) کی تھی۔ اس کی حیثیت شریعت میں کسی تبدیلی کی نہ تھی۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ حکم حاکم ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ وہ محدود زمانے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اللہ کے حکم کی طرح قیامت تک کے لیے ایک ابدی حکم۔ لیکن بعد کے علما نے حاکم کے اجتہادی حکم کو عملاً امر شرعی کا درجہ دے دیا۔ وہ خلیفہ عمر کے اسی عمل پر فتویٰ دینے لگے، جب کہ خلیفہ عمر کا ہرگز یہ منشا نہ تھا۔ بعد کے علما کو یہ حق نہ تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کو شرعی حکم کی طرح عام حکم کر دیں۔ اسی لیے عمر فاروق کے حکم کو عام کرنے کے باوجود ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ خطا کار کے پیٹھ پر کوڑے ماریں، اور اس کے بعد تین طلاق کو شرعی طور پر واقع کرنے کا فتوی دیں۔ کیوں کہ کوڑا مارنے کا حق مسلمہ طور پر صرف حاکم کو ہے، کسی اور کو ہر گز نہیں۔ جب علما کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خطا کار کو کوڑے ماریں تو ان کو یہ بھی حق نہیں تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کو عام کریں، اور عام کر کے تین طلاق کو واقع کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔ بعد کے علما کا یہی وہ اجتہادی طریقہ ہے، جس سے تین طلاق (triple talaq) کا موجودہ مسئلہ پیدا ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page