کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ بعد کے علما نے جب خلیفہ عمر کے عمل کی بنیاد پر فتویٰ دینا شروع کر دیا تو یہ فتویٰ ناقص فتویٰ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ ان علما نے طلاقِ ثلاثہ کو واقع کرنے کا فتویٰ تو دیا، جب کہ اس کے لازمی جزو، یعنی کوڑا مارنے کو چھوڑ دیا۔ اس طرح اس مسلک کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ یہ مسلک نہ تو ابتدائی دور پر قائم تھا، اور نہ خلیفہ عمر کے مسلک پر۔ اس کا جواز نہ تو دور اول کے عمل پر قائم تھا، اور نہ خلیفہ عمر کے حکم حاکم کے عمل پر۔ اب ضرورت ہے کہ امام ابن تیمیہ کے فتویٰ کو اس معاملے میں دوسرے علما بھی درست مسلک کے طور پر اختیار کرلیں، جس طرح سلفی علما نے اس کو اختیار کر لیا ہے۔ یعنی طلاقِ ثلاثہ کو غضب پر محمول کرنا، اور اس کو ایک طلاق کا درجہ دینا۔ کامیاب شادی کا راز ہر مسئلے کا یقینی حل ہے، بشرطیکہ مسئلے کو صحیح اصول کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ کسی مسئلے کو حل کرنے کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ یہ دریافت کیا جائے کہ جو ہوا اس کا اصل ذمہ دار کون تھا۔ اکثر حالات میں مسئلے کے حل کا آغاز یہ ہوتا ہے کہ آدمی یہ دریافت کرے کہ اصل غلطی خود اس کی ہے، کسی دوسرے کی نہیں۔ مثلاً لو میرج (love marriage) میں نکاح کے وقت شادی کا معاملہ بظاہر محبت کا معاملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن نکاح کے بعد شادی کا معاملہ عملاً ذمہ داری کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے، اور فطرت کے اصول میں کوئی تبدیلی نہیں۔ عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو نکاح کا وہی طریقہ درست ہے جس کو ارینجد میرج (arranged marriage) کہا جاتا ہے۔ لو میرج اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک جذباتی میرج ہے، جس کو غلط طور پر لو میرج کا نام دے دیا گیا ہے۔ لو میرج کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں طرفین کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader