Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

طلاق کا مسئلہ

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

معروف عالم ابن تیمیہ (728-661ھ) نے علما کی اس غلطی کو جانا اور انھوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا۔ انھوں نے کہا: اِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ كَلِمَاتٍ ... فَإِنَّهُ مُحَرَّمٌ وَلَا يَلْزَمُ مِنْهُ إِلَّا طَلْقَةً وَاحِدَةً ... فَإِنَّ كُلَّ طَلَاقٍ شَرَعَهُ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا إِنَّمَا هُوَ الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ؛ لَمْ يَشْرَعِ اللَّهُ لِأَحَدٍ أَنْ يُطَلِّقَ الثَّلَاثَ جَمِيعًا. (مجموع الفتاوی، 9-33)۔ یعنی اگر کسی نے ایک طہر میں تین طلاق دی، ایک ہی کلمہ میں یا ایک سے زیادہ کلمات میں۔۔۔ تو یہ حرام ہے، اور اس سے صرف ایک طلاق لازم آتی ہے... کیوں کہ ہر وہ طلاق جس کو اللہ نے قرآن میں مدخول بہا کے لیے مشروع کیا ہے، وہ طلاق رجعی ہے، اللہ نے کسی کے لیے ایک ساتھ تین طلاق کو مشروع نہیں کیا۔ مگر ابن تیمیہ کے بعد سلفی علما کے سوا دوسرے علما نے ابن تیمیہ کے اس فتویٰ کو عملاً تسلیم نہیں کیا۔ وہ بدستور اپنی سابق روش پر قائم رہے۔ اس معاملے میں علما کی روش ایک غلط نہی پر قائم تھی۔ انھوں نے غلط طور پر بعد کے علما کی روش کو اجماع امت کا مسئلہ بنا لیا۔ حالاں کہ ہرگز وہ اجماع امت کا مسئلہ نہ تھا۔ یہ بلاشبہ ایک غلط نہی کا معاملہ تھا۔ خلیفہ عمر فاروق کے آنے والے علما نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے حکم حاکم (executive order) کو امر شرعی کا درجہ دے دیا۔ مزید غلطی یہ ہوئی کہ غلط نہی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماع امت کا درجہ دے دیا گیا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ تھا۔ یعنی پہلے مرحلہ میں حکم حاکم کو امر شرعی کا درجہ دینا، اور پھر غلط نہی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماع امت سمجھ لینا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں صحیح موقف کیا ہے۔ صحیح موقف یہ ہے کہ اس معاملے میں ماضی کی غلطی کی تصحیح کی جائے، اور وہ یہ ہے کہ خلیفہ کے عمل کو حکم حاکم (executive order) کا درجہ دیا جائے، نہ کہ حکم شریعت کا درجہ۔ دوسری بات یہ ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page