کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ایک پیغام دے رہا ہے۔ وہ یہ کہ لوگ فطرت سے ٹکرانے کے بجائے اس سے موافقت کریں ۔ وہ اس معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ مینجمنٹ کا طریقہ اختیار کریں۔ They have to adopt the art of difference اس معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ سرتا سر بے فائدہ ہے۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص فطرت کے قانون سے لڑ کر جیت نہیں سکتا۔ جب ٹکراؤ انسان اور فطرت کے درمیان ہو تو ہار ہمیشہ انسان کو ہوگی، فطرت کے قانون کو نہیں۔ سوال و جواب سوال میں بہت مجبور ہوں۔ بات یہ ہے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی اور جہاں میری ممى شادی کروارہی ہیں وہاں تو بالکل ہی نہیں کرنا چاہتی۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی لڑکا صرف دنیا کو دکھانے کے لیے مجھ سے شادی کرلے۔ مجھے صرف زندگی گزارنی ہے۔ زندگی جینے کی ذرہ برابر بھی خواہش نہیں ہے لیکن سماج میں اکیلے ایک لڑکی زندگی نہیں گزار سکتی۔ اور کسی سے یہ بات کہہ نہیں سکتی اور کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے جس سے میں مشورہ لے سکوں۔ پلیز آپ میری مدد کریں۔ میں اپنے جواب کا بے صبری سے انتظار کروں گی۔ (ایک مسلم خاتون) جواب شادی کے سلسلے میں اکثر لڑکے یا لڑکیاں اپنی فرضی آرزوؤں کے تحت یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا میں ان کے لیے کوئی معیاری جوڑ موجود ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ کوئی بیوی معیاری بیوی ہے اور نہ ہی کوئی شوہر معیاری شوہر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader