Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

سوال و جواب

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وجہ ہے کہ اکثر پسند والی شادیاں درمیان ہی میں ٹوٹ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی معیاری جوڑے کے حصول کا نام نہیں ہے بلکہ وہ غیر معیاری جوڑے کے ساتھ نباہ کرنے کا نام ہے۔ عورت اور مرد دونوں کے لیے زندگی فطرت کا ایک قیمتی تحفہ ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کو چاہیے کہ وہ اس تحفہ کو خوشی کے ساتھ قبول کرے۔ وہ جینے کی طرح جیے اور جب اس کی موت آئے تو وہ اس احساس کے ساتھ مرے کہ اس نے زندگی کا فریضہ ادا کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ غیر مطلوب جوڑے کے ساتھ زندگی گزارنا یا غیر مطلوب افراد کے ساتھ کام کرنا کوئی برائی نہیں۔ اس کے اندر ایک بے حد مثبت پہلو چھپا ہوا ہے، وہ یہ کہ اسی کے دوران انسان کی ذہنی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔ ذہنی اور روحانی ترقی، اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ انسان ناموافق صورتحال پر راضی ہو جائے، وہ فرق اور اختلاف کے باوجو دمل جل کر رہنے کا طریقہ سیکھ لے۔ اپنی پسند کی دنیا تلاش کرنے کا نام عقل مندی نہیں، عقل مندی یہ ہے کہ آدمی پسند کے خلاف جینے کا راز دریافت کرلے۔ سوال کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف بہو کو نصیحت کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ گھر کے سارے جھگڑے کی وجہ بہو کو مانا جاتا ہے۔ کیا سسرال میں بہو کو دائی کی طرح رہنا چاہیے جو یک طرفہ ناخوش گواریوں کو برداشت کرے؟ (مزصوفیہ حیدر، بہار) جواب شرعی اعتبار سے ساس اور بہو، دونوں کی ذمہ داری بالکل یکساں ہے۔ ساس کا فرض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page