سوال و جواب
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آئیڈیل لڑکے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ تلاش اکثر برعکس نتیجہ کا سبب بنتی ہے۔ والدین اپنے جذبہ محبت کے تحت یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ دنیا میں نہ کوئی آئیڈیل لڑکا ہے اور نہ کوئی آئیڈیل لڑکی۔ ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ آئیڈیل کو چھوڑ کر پریکٹکل کے اصول پر مسئلہ حل کیا جائے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ شادی کی کامیابی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ والدین کو اپنی پسند کا داماد یا بہو مل جائے۔ شادی کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں زندگی کی حقیقتوں سے آشنا ہوں اور حقائق کی بنیاد پر، نہ کہ جذبات کی بنیاد پر باہمی زندگی کی تعمیر کریں۔ ایسی حالت میں والدین کے لیے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کے عملی حقائق سے باخبر کریں۔ وہ انہیں تیار کریں کہ وہ شادی کے بعد تحمل اور دانش مندی کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں اور ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہوئے زندگی کی جدوجہد کریں۔ اگر لڑکے اور لڑکی میں اس قسم کا شعور حیات موجود ہو تو یقینی طور پر وہ کامیاب زندگی حاصل کر لیں گے، خواہ شادی کے وقت بظاہر ان کی معاشی حالت زیادہ بہتر نہ ہو۔ مذکورہ قسم کی صورت میں والدین کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ لڑکی کی رضامندی لے کر اور اللہ کے بھروسہ پر بلا تاخیر نکاح کا معاملہ کر دیں۔ کامیاب زندگی کے معاملہ میں وہ اللہ پر بھروسہ کریں، نہ کہ اپنی سوچ اور تدبیر پر۔ سوال میں آپ کے الرسالہ کا برابر مطالعہ کرتا ہوں۔ آپ کی بات ہمیشہ دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ مجھے آپ سے ایک سوال کا جواب چاہیے۔ مجھے بچے رکھنے میں زبردست دشواری محسوس ہوتی ہے۔ میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا ہے کہ میں شادی کے بعد پوری زندگی بے اولاد رہوں گا۔ اس معاملہ میں آپ اپنے مشورہ سے آگاہ فرمائیں۔ (ڈاکٹر عمر علی، مہاراشٹر)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader