Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

سوال و جواب

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ وہ اپنی بہو کو وہی عزت اور محبت دے جو وہ اپنی بیٹی کا حق سمجھتی ہے۔ اسی طرح بہو کا فرض ہے کہ وہ ساس کے ساتھ اسی عزت اور محبت کا معاملہ کرے جو وہ اپنی ماں کے لیے کرتی رہی ہے۔ اس معاملہ میں دونوں میں سے جو بھی کوتاہی کرے گا وہ یقینی طور پر اس کے لیے آخرت میں پکڑا جائے گا۔ دونوں میں سے کوئی بھی آخرت کی پکڑ سے بچنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گھر کو امتحان کا مقام بنا دیا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے امتحان کا پرچہ ہیں۔ اسی طرح ساس اور بہو دونوں ایک دوسرے کے لیے امتحان کا پرچہ ہیں۔ یہ امتحان اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس میں کوتاہی کی تلافی نماز روزہ کے ذریعے بھی نہیں ہو سکتی۔ سوال واقعہ یہ ہے کہ میرا مسئلہ وہی ہے جو بہت سی مسلم لڑکیوں کا مسئلہ ہے، اور وہ میری شادی کا مسئلہ ہے۔ میری ماں آج کل پریشانی میں ہیں، ورنہ وہ خود آپ سے رابطہ قائم کرتیں۔ میرے رشتہ کے لیے بہت سے پیغامات آئے۔ ان میں سے کوئی رشتہ میرے والدین کو پسند نہ آسکا۔ میں اللہ پر بہت یقین رکھتی ہوں مگر جب میں اپنے والدین کو پریشان دیکھتی ہوں تو اپنا اعتماد کھودیتی ہوں۔ میری عمر 20 سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں اور میں نے کمپیوٹر کی ٹریننگ لی ہے۔ آج کل میں ایک اسلامک ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں۔ میری گزارش ہے کہ آپ مجھے پڑھنے کے لیے دعا بتائیں اور مشورہ دیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر ایک کے نکاح کا ایک مقرر وقت ہے۔ اللہ کی رحمت سے میں اپنے کام میں کامیاب ہوں۔ (ایک پاکستانی خاتون) جواب مذکورہ قسم کا مسئلہ بہت سی مسلم لڑکیوں کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں اصل غلطی والدین کی ہے۔ والدین عام طور پر اپنی بیٹی کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page