سوال و جواب
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں ۔ میں ایک دینی ادارے میں سروس کرتا ہوں ۔ میری تنخواہ کم اور گھریلو حالات نا قابلِ بیان ہیں ۔ اس وقت حالات بڑے ہی خراب ہیں ۔ اگر کچھ کہتا ہوں تو لڑائی و فساد رونما ہوتا ہے ۔ ان حالات میں دل کو اطمینان نہیں ہوتا اور خیالات فاسدہ دل و دماغ میں آتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں ؟ کیا سروس ختم کر دوں یا ان تمام حالات کو برداشت کروں ؟ میں معاشی اعتبار سے بہت ہی پریشان ہوں ۔ برائے کرم اس کا کوئی حل بتائیں ۔ ( محمد عتیق الرحمن ، ہنگولی ) جواب معاشی مسئلہ ایک انفرادی مسئلہ ہے ۔ اس کا حل ہر ایک کو اپنے حالات کے اعتبار سے ڈھونڈھنا پڑتا ہے ۔ کسی کے لیے معاشی مسئلہ کا حل یہ ہوتا ہے کہ وہ کفایت اور سادگی کا طریقہ اختیار کرے ۔ کسی کے لیے یہ ہوتا ہے کہ کوئی ہنر سیکھے ۔ کسی کے لیے یہ ہوتا کہ وہ صرف تنہا نہ کمائے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی اس کام میں لگائے ۔ کسی کا کیس یہ ہوتا ہے کہ وہ بہتر تعلیم حاصل نہ کر سکا ۔ ایسے شخص کے لیے میرا مشورہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے لیے قناعت کا طریقہ اختیار کریں اور بچوں کو اچھی تعلیم دلائیں ۔ تا کہ آپ کی اگلی نسل دوبارہ اس مسئلہ کا شکار نہ ہو ۔ اس سلسلہ میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ مسائل ہر ایک کو پیش آتے ہیں ، خواہ اُس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ گھر والوں کی طرف سے شکایات ہوں تو اُن کا جواب تحمل کے ساتھ دیا جائے ۔ ردعمل کا طریقہ ہرگز نہ اختیار کیا جائے ۔ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز دانش مندی ہے ، نہ کہ زیادہ آمدنی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader