سوال و جواب
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال سوال یہ ہے کہ انسان کی خودداری کی اہمیت کیا ہے اور گھر والوں سے خودداری کس حد تک برتی جا سکتی ہے اور دنیا والوں سے کس حد تک ۔ (حافظ محمد الیاس، بیجاپور) جواب آج کل جس چیز کو خودداری کہا جاتا ہے اس کی تائید میں مجھے کوئی لفظ قرآن وحدیث میں نہیں ملا۔ میں اس خودداری کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ عین وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں حمیت جاہلیہ کا لفظ آیا ہے(48:26)۔ اسلام کے نزدیک اصل مطلوب چیز خودداری نہیں ہے بلکہ خودشکنی ہے۔ حمیت نہیں ہے بلکہ تواضع ہے اصرار نہیں ہے بلکہ اعتراف ہے۔ اسلام میں نہ خودی ہے اور نہ بے خودی۔ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے وہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے فکر و عمل کا محور خدا بن جائے، اس کی محبوب چیز تواضع اور انکساری ہو۔ اس مزاج کا تعلق گھر کے اندر کی زندگی سے بھی ہے اور باہر کی زندگی سے بھی۔ ایک حدیث کے مطابق، مومن کو نرم پودے کی طرح ہو جانا چاہیے جو اکڑ سے خالی ہوتا ہے۔ خود داری دراصل اکڑ کا خوبصورت نام ہے۔ جو آدمی لچک یا اعتراف کو بے عزتی سمجھتا ہے وہ اپنی اس کمزوری کے جواز کے لیے اس کو خودداری کا نام دے دیتا ہے۔ سوال میری ازدواجی زندگی میں ، میری اور میری شریک حیات کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی۔ اس سلسلے میں میرے دماغ میں مختلف سوالات گونج رہے ہیں۔ میری شریک حیات صحت خراب ہونے کی وجہ سے میری اجازت کے بغیر اپنے گھر چلی گئی۔ ایک دن بعد پتا چلا کہ خدا نے ہمیں اولاد عطا کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader