Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے معاذ، اللہ نے زمین پر سب سے زیادہ محبوب چیز جو پیدا کی وہ غلام کو آزاد کرنا ہے، اور اللہ نے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز جو زمین پر پیدا کی وہ طلاق ہے۔ (قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعِتَاقِ، وَلَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ) سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 3984۔ ان روایات سے نکاح و طلاق کے بارے میں اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی نکاح سے پہلے تو خوب سوچے ۔ مگر نکاح کے بعد وہ صرف نباہنے کی کوشش کرے۔ اسلام میں غیر عورت کو بالقصد دیکھنا جائز نہیں۔ مگر مخطوبہ کو دیکھنے کی کھلی اجازت دی گئی۔ دوسری طرف طلاق کو ابغض المباحات قرار دیدیا گیا۔ گویا نکاح سے پہلے تحقیق کے لیے ممنوعہ حد تک جانے کی اجازت ہے۔ مگر نکاح کے بعد مباح حد کے اندر داخلہ بھی پسند نہیں۔ نکاح کا معاملہ عام طور پر مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي (نکاح میری سنت سے ہے، پس جو شخص میری سنت سے انحراف کرے تو وہ مجھ سے نہیں) یہ پورا جملہ اس صورت میں حدیث نہیں ہے۔ ابن ماجہ کی روایت کے مطابق، حدیث کے اصل الفاظ صرف یہ ہیں: اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1846)۔ البتہ ایک اور روایت میں بقیہ الفاظ آئے ہیں۔ ایک تفصیلی روایت میں آیا ہے کہ تین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page