نکاح کا معاملہ
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عبادات کے بارے میں حضرت عائشہ سے پوچھا۔ حضرت عائشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات کے بارے میں جو بتایا وہ انہیں کم دکھائی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہیں اس لیے ہمیں زیادہ عمل کرنا چاہیے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ساری رات نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ کے لیے ازدواجی زندگی کو ترک کردوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں تم لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں۔ لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے ازدواجی تعلق بھی قائم کرتا ہوں۔ پس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں (فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِی فَلَيْسَ مِنِّي) صحیح البخاری، حدیث نمبر 5063۔ جیسا کہ متن سے واضح ہے، حدیث میں فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِی فَلَيْسَ مِنِّي کا تعلق تمام شرعی اعمال سے ہے، نہ کہ مخصوص طور پر نکاح سے۔ دوسری بات یہ کہ اس حدیث کا تعلق سادہ طور پر نکاح نہ کرنے سے نہیں ہے، بلکہ اعتقادی طور پر نکاح کو قابل ترک سمجھنے سے ہے (فتح الباری، جلد 9، صفحہ 6-105)۔ اصل یہ ہے کہ نکاح کی حیثیت نماز کی طرح کسی لازمی فریضہ کی نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جو شخص نکاح نہ کرے وہ تارکِ صلاۃ کی طرح گنہگار ہو جائے، یا اس کا ایمان ناقص رہے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5065)۔ اس معاملہ میں اصل مطلوب چیز با عفت زندگی ہے، نہ کہ ہر حال میں اور لازمی طور پر نکاح کرنا۔ کوئی گروہ اگر اجتماعی طور پر نکاح کا طریقہ چھوڑ دے تو یہ یقیناً درست نہ ہوگا۔ کیوں کہ ایسی صورت میں بقائے نسل خطرہ میں پڑ جائے گی۔ لیکن اگر انفرادی طور پر کوئی شخص اپنے حالات کے اعتبار سے نکاح نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader