سوال و جواب
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ دورانِ تعلیم الرسالہ کا مستقل قاری تھا لیکن ملازمت میں آنے کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ لیکن میں جب بھی گھر جاتا ہوں تو وہاں سے سارا الرسالہ اپنے ساتھ لے کر آتا ہوں ۔ کیوں کہ میرے والد محترم اس کے مستقل قاری ہیں۔ میری شادی ہوئے تقریباً چار سال ہونے جا رہے ہیں۔ ایک لڑکا بھی ہے۔ لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ شادی ہونے کے اتنی مدت کے بعد بھی ہم لوگوں میں خوشگوار ماحول نہیں بن سکا۔ شادی کے اوائل سے ہی جھگڑے ہوتے رہے۔ کئی بار ایسے حالات ہوئے کہ شاید ہم لوگوں کو الگ ہو جانا پڑے گا۔ لیکن میں ہمیشہ صبر اور تحمل سے کام لیتا رہا۔ اور اب بھی صبر کا دامن تھامے ہوئے بہتر حالات کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ شادی کے اوائل سے ہی میری بیوی میرے گھر والوں سے نفرت کرنے لگی۔ پھر میرے والدین اور میرے سسرال والوں کے درمیان نا اتفاقی بڑھتی گئی۔ فرزانہ میرے خاندان کی پہلی بہو تھی۔ اس لیے میرے والدین کو بھی بہت ساری توقعات تھیں لیکن اس نے کسی بھی طرح adjust کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پھر کچھ دن بعد وہ سسرال جانے سے منع کرنے لگی۔ جب کہ وہ میرے ساتھ 'پہلی بھیت' میں رہتی تھی۔ ہم لوگ لمبے وقفے کے بعد گھر جاتے تھے۔ دو چار دن گھر میں مہمان کی طرح گزار کر پھر واپس 'پہلی بھیت' آ جاتا تھا۔ دورانِ قیام ہم لوگ مہمان ہی رہتے تھے۔ لیکن فرزانہ نے کبھی بھی میرے بوڑھے والدین کو ایک کپ چائے بنا کر نہیں پلائی۔ جب کہ میں ہمیشہ اسے یہی سمجھاتا تھا کہ ہم لوگ کچھ دنوں کے لیے آئے ہیں۔ سب سے مل جل کر اور سب کو خوش کر کے واپس چلا جاؤں گا۔ لیکن اس نے میری باتوں کو کبھی نہیں مانا۔ جس کی وجہ سے میں upset رہتا تھا۔ پھر ہم لوگوں کے درمیان انھیں گھریلو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader