Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

سوال و جواب

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

چارماہ بعد اس نے مجھ کو یہ جواب دیا کہ میں الگ سکونت اختیار کرلوں گی کیونکہ آپ کے گھر والوں سے میری بنتی نہیں۔ وہ الگ سکونت اختیار کرنے کی ضد پر قائم ہے جب کہ میری رائے اس سے مختلف ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔ (ایک قاری الرساله، کشمیر) جواب جو مسئلہ آپ نے تحریر فرمایا ہے وہ تقریباً ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں کچھ باتیں عرض ہیں: 1۔ ساس اور بہو کا جھگڑا کبھی دو طرفہ بنیاد پر حل نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ یک طرفہ بنیاد پر حل ہوتا ہے۔ یعنی یا تو ساس یک طرفہ طور پر سمجھوتہ کرے یا بہو یک طرفہ طور پر سمجھوتہ کرے۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ بہو کو اس کے نادان ماں باپ یک طرفہ سمجھوتہ کرنے نہیں دیتے۔ اسی طرح ساس کو اس کا نادان بیٹا یک طرفہ سمجھوتہ پر راضی نہیں کر پاتاہے۔ اس بنا پر وہ مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا۔ 2۔ اس مسئلہ کا پائیدار حل صرف یہ ہے کہ آدمی اُس وقت شادی کرے جب کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ الگ مکان میں رہنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ جب تک یہ استطاعت نہ ہو، وہ انتظار کرے۔ 3۔ موجودہ حالات میں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیوی کو اس کے میکے میں رہنے دیں۔ آپ خود وہاں کبھی کبھی جائیں مگر بیوی کو اپنے گھر لانے کی کوشش نہ کریں۔ فی الحال آپ یہی کریں اور کشادگی کے لیے مستقبل کا انتظار کریں۔ سوال میں 1999 میں، بینک میں Agriculture Officer کے عہدے پر فائز ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page