Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

سوال و جواب

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے وہ ساری چیزیں دستیاب ہیں۔ میں اپنے بھائیوں کو صرف تین ہزار روپئے ماہانہ دیتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں اپنے گھر میں کچھ بھی نہیں دیتا ہوں۔ میری بہت خواہش تھی کہ میں اپنے والدین کو کچھ دنوں کے لیے لاؤں اور U.P دکھا دوں۔ لیکن میں یہ خواہش کبھی ظاہر کرنے کی ہمت نہیں کر سکا۔ کیوں کہ میں جانتا تھا کہ یہ میرے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ کبھی بھی میرے گھر والوں کی خیریت دریافت نہیں کرتی ہے۔ جب کہ میرے گھر والے اکثر فون کر کے اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ بات کرنے سے گریز کرتی ہے۔ (نازش ریحان، پیلی بھیت) جواب آپ کے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ آپ جب ملازمت میں آئے تو آپ نے الرسالہ کا مطالعہ چھوڑ دیا۔ یہ آپ کی بہت بڑی غلطی تھی۔ الرسالہ، زندگی کی سائنس بتاتا ہے۔ ”الرسالہ“ آرٹ آف لونگ (Art of Living) کا شعور دیتا ہے۔ الرسالہ یہ بتاتا ہے کہ زندگی کے مسائل کو کیسے مینج (manage) کیا جائے۔ الرسالہ ایسی چیز نہیں ہے جس کو کچھ دن پڑھا جائے اور پھر اس کے بعد چھوڑ دیا جائے ۔ الرسالہ پوری زندگی کا کورس ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اب آپ دوبارہ الرسالہ پڑھنا شروع کر دیں۔ اور پابندی کے ساتھ بلاناغہ ہر ماہ پڑھیں۔ بیوی کے معاملے میں آپ کا نظریہ غیر فطری ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لیجیے کہ آپ کو خونی رشتے کی بنا پر اپنے والدین سے جو دلچسپی ہے وہ آپ کی بیوی کو کبھی نہیں ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ آپ کی بیوی کا خونی رشتہ آپ کے والدین سے نہیں ہے۔ آپ کو میرا مشورہ ہے کہ آپ بیوی سے وہ امید نہ رکھیں جو فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page