Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

سوال و جواب

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ چاہتے ہیں کہ خوشگوار زندگی گزاریں تو بیوی جیسی ہے ویسی ہی اس کو قبول کرلیں اور پھر اس پر راضی ہوجائیے۔ اور اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو آپ مشترک خاندانی زندگی کو ختم کر دیجیے، اور الگ گھر بنانا شروع کر دیجیے۔ یاد رکھیے، زندگی حقیقت پسندی کا نام ہے۔ آپ اپنے جذبات کے مطابق، زندگی کا نقشہ نہیں بنا سکتے۔ زندگی کا نقشہ وہی رہے گا جو فطرت کے قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ آپ کی موجودہ شکایت آپ کے غیر حقیقت پسندانہ ذہن کی پیداوار ہے۔ آپ اپنے غیر حقیقت پسندانہ ذہن کو ختم کر دیجیے اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ سوال میرا الڑکا افسر ہے۔ عرب میں رہتا ہے۔ بہت دیندار ہے۔ میں نے اپنے لڑکے کی شادی کی ہے۔ .B.A پاس بہو ہے۔ وہ لوگ بھی کھاتے پیتے خوش حال ہیں۔ ہم لوگ بہت ارমান سے بہو بیاہ کر لائے لیکن بہو کسی کو منہ نہیں لگاتی ہے۔ میرے گھر میں بہو کی بہت عزت ہوئی۔ کوئی روک ٹوک اور نہ کوئی دباؤ۔ جب میکے جانا چاہتی، میں اسے بھیج دیتی۔ میں بلاتی تو وہ اپنی مرضی سے ہی آتی۔ شادی کو 2 سال گزر گئے ہیں لیکن وہ سب سے الگ تھلگ رہتی ہے۔ میرے کسی رشتے دار کا فون آتا ہے تو بات نہیں کرتی۔ گھر کے کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتی۔ کبھی میں کوئی چیز بنانے کو کہتی، تو کہتی ہے مجھے نہیں آتا ہے بنانا۔ بہو اچھی شکل وصورت کی ہے۔ میں نے کچھ نہیں کہا، میں خود ہی ہر کام کر لیتی۔ پھر بھی وہ میرے گھر خوش نہیں رہی۔ ہم لوگوں نے اور میرے بیٹے نے اسے ہر طرح کا سکھ دیا۔ ہر آدمی اس کے لیے کچھ سامان لاتا، تا کہ وہ میرے گھر خوش رہے لیکن نہیں۔ وہ کسی کو اپنا نہیں سمجھتی۔ نہ صبح میں ناشتہ بنانے کی فکر نہ کھانا بنانے کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page