Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

تطہیر اور تزکیہ کا کام کرنا ہے۔ وہ اپنے افراد کے اندر سے برائی کو نکالے اور ان کے اندر بھلائی کو فروغ دے۔ ہر گھر کے مردوں اور عورتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندان کو صالح خاندان بنائیں، تاکہ ان کے مجموعے سے صالح معاشرہ وجود میں آ سکے۔ اس معاملے میں عورت اور مرد دونوں کی ذمہ داری یکساں ہے۔ تعمیر کے اس کام میں مرد کی حیثیت اگر ناظم کی ہے تو عورت کی حیثیت معاون کی۔ دونوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنے اپنے دائرے میں خاندان کی صحت مند تعمیر کا کام انجام دیں۔ یہ خدا کی طرف سے عائد کردہ ایک ذمہ داری ہے۔ عورت اور مرد اگر اس ذمہ داری کو درست طور پر انجام دیں تو ان کے لیے خدا کے یہاں بہت بڑا انعام ہے۔ اور اگر وہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں کوتاہ ثابت ہوں تو وہ خدا کے یہاں پکڑے جائیں گے، اور خدا کی پکڑ بلا شبہ نہایت سخت ہے۔ سب سے بڑی نعمت ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1467، سنن النسائی، حدیث نمبر 3232)۔ یعنی دنیا کی چیزوں میں سے سب سے اچھی چیز صالح عورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت جو پیدا ہوتی ہے، وہ اپنے فطری امکان (potential) کے اعتبار سے کسی مرد کے لیے سب سے اچھی متاع حیات ہے۔ لیکن اس امکان کو واقع (actual) بنانا مرد کا کام ہے۔ جس طرح خام لوہا (ore) فطرت کا عطیہ ہوتا ہے، لیکن خام لوہے کو اسٹیل بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے۔ مرد کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عورت کا قدر دان بنے۔ وہ عورت کے اندر چھپے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page