Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ثبوت کے لیے کافی ہے کہ یک زوجیت (monogomy) کا طریقہ ہی فطری طریقہ ہے۔ اور تعدد زوجیت (polygamy) کا طریقہ ایک استثنائی اجازت ہے، جو قانون ضرورت (law of necessity) کے تحت رکھا گیا ہے۔ اس قسم کا استثنائی قانون زندگی کے ہر معاملے میں ہوتا ہے، مگر استثنائی قانون صرف ایک استثنائی قانون ہے اس کو عمومی قانون کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب: تعدد ازدواج)۔ اہل بیت قرآن کی سورہ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی نسبت سے یہ آیت آئی ہے: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرُّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (33:33)۔ یعنی اللہ تو چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دور کرے اور تم کو پوری طرح پاک کر دے۔ اس آیت میں بظاہر اہل بیت رسول سے خطاب کیا گیا ہے۔ اہل بیت رسول تمام اہل ایمان کے لیے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے اس آیت کا تعلق تمام اہل ایمان سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں بالواسطہ طور پر مسلم معاشرے کے ہر گھر سے خطاب کیا گیا ہے۔ ہر مسلم خاندان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسی تعمیری کورس کو اختیار کرے جس کا حکم اہل بیت رسول کے لیے دیا گیا تھا۔ ہر گھر سماج کا ایک یونٹ ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں سے مل کر ایک سماج بنتا ہے۔ اگر سماج کا ہر یونٹ درست ہو جائے تو پورا سماج درست ہو جائے گا، اور اگر سماج کے یونٹ بگڑے رہیں تو سماج بھی ایک بگڑا ہوا سماج بن جائے گا۔ اس اعتبار سے ہر مسلم خاندان کی وہی حیثیت ہے جو قرآن کے الفاظ میں ”اہل بیت“ کی تھی۔ ہر مسلم خاندان کو اپنے افراد کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page