کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے ذہن کو ارتقا یافتہ ذہن بنائے۔ وہ اپنے شعور کو بیدار کر کے اپنے ذہن کی تکمیل کرے۔ اس عمل میں بنیادی طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے ۔ مطالعہ، مشاہدہ، اور دوسرے انسانوں سے فکری تبادلہ (intellectual exchange)۔ مطالعے کا سب سے بڑا ذریعہ کتابیں ہیں۔ اسی طرح مشاہدے کا سب سے بڑا ذریعہ عالم فطرت ہے۔ افکارو خیال کے تبادلے کے سلسلے میں ضروری ہے کہ آدمی کے اندر دوسروں سے سیکھنے کا مزاج ہو۔ وہ ہر ایک کے ساتھ سیکھنے کے عمل (learning process) کو مسلسل جاری رکھے۔ سیکھنے کے عمل کے سلسلے میں ہر مرد کے لیے اس کی بیوی اور ہر بیوی کے لیے اس کا شوہر قریبی انٹلکچول پارٹنر(intellectual partner) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ازدواجی زندگی اس اعتبار سے ایک عظیم موقع کی حیثیت رکھتی ہے۔ شادی کی صورت میں ہر عورت اور مرد اپنے لیے ایک انٹلکچول پارٹنر کو پالیتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنے ذہنی ارتقا کے عمل کو بلا انقطاع جاری رکھیں۔ ذہنی ارتقا (intellectual development) ہر عورت اور مرد کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ ازدواجی زندگی کی صورت میں دونوں ایسے انٹلکچول پارٹنر کو پالیتے ہیں جو ہر وقت قابل حصول ہو۔ ذہنی ترقی کے اس عمل کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ دونوں ذہنی ترقی کی اہمیت کو سمجھیں اور وہ اس کو اولین ترجیح کی حیثیت دے کر اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کر لیں۔ ذہنی ارتقا کا ساتھی خاموشی کی صفت کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ کسی عورت اور مرد کے لیے ایک دریافت کا ذریعہ ہے۔ جب آپ نہ بولیں، تو فطری طور پر آپ اپنا انٹلکچول پارٹنر تلاش کرنے لگتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader