Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

ذہنی ارتقا کا ساتھی

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ذہنی ارتقاء (intellectual development) ہے۔ اس ذہنی ارتقاء کے عمل میں سب سے زیادہ کار آمد چیز انٹلکچول ایکسچینج (intellectual exchange) ہے۔ جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے جس کو چنگاری کہا جاتا ہے، اسی طرح جب دو انسانی ذہن کھلے طور پر انٹلکچول ایکسچینج کرتے ہیں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے دوران زیر بحث موضوع کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں اور اس طرح ذہنی ارتقا کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔ انٹلکچول ایکسچینج کا یہ عمل مرد کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور عورت کے ساتھ بھی۔ عورت چوں کہ مرد کے لیے بحیثیت بیوی ہر وقت کی ساتھی ہوتی ہے اس لیے دیگر افادی پہلوؤں کے علاوہ انٹلکچول ایکسچینج کے معاملے میں وہ بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ بیوی ایک ایسی انٹلکچول پارٹنر ہے جو مرد کے لیے ہر وقت قابلِ حصول رہتی ہے۔ صنفی تعلق اگر مطلقاً مطلوب ہوتا تو حضرت مسیح کو بھی ضرور اس کے مواقع دیے جاتے۔ اسی طرح بقائے نسل اگر مطلقاً مطلوب ہو تو حضرت محمد کے یہاں بھی اسے پایا جانا چاہیے۔ حالاں کہ دونوں مثالوں میں یہ چیز مفقود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے جو چیز مطلقاً مطلوب ہے، وہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو جنتی انسان بنائے۔ اس عمل تزکیہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ انٹلکچول ایکسچینج لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں عملِ زراعت سے تعبیر کیا گیا ہے (2:223)۔ انٹلکچول ایکسچینج کا ذریعہ مرد بھی ہو سکتے ہیں اور عورت بھی، مگر تعمیر شخصیت کے لیے یہ انتہائی ضروری عمل ایک قربانی چاہتا ہے اور وہ قربانی یک طرفہ صبر ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے ساتھ انٹلکچول ایکسچینج کے عمل میں مشغول ہوتا ہے تو لازما ایسا ہوتا ہے کہ بار بار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page