Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ہوتی۔ مثلاً عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایک عورت یا مرد اگر ظاہری دل کشی کے اعتبار سے زیادہ ہوں تو وہ داخلی خصوصیات کے اعتبار سے کم ہوں گے۔ اور اگر کسی میں داخلی خصوصیات زیادہ ہوں تو اس کے اندر خارجی صفات کی کمی پائی جائیں گی۔ انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی کے منفی پہلو کو زیادہ دیکھتا ہے، اس کے مثبت پہلو اکثر اس کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک تباہ کن مزاج ہے۔ اسی مزاج کی وجہ سے رشتوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر ایسا کیا جائے کہ مثبت پہلو پر دھیان دیا جائے اور منفی پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو تعلقات خود بخود خوش گوار ہو جائیں گے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہر مرد کو اس کی بیوی بہترین رفیق حیات دکھائی دے گی اور ہر عورت کو اس کا شوہر بہترین رفیق زندگی نظر آئے گا۔ خدا نے کسی عورت یا مرد کو کم تر پیدا نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد اپنے آپ میں باعتبار تخلیق کامل ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے فہم کا قصور ہے کہ ہم کسی کو کم اور کسی کو زیادہ سمجھ لیتے ہیں۔ عورت اور مرد اگر اس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی شکر کی زندگی بن جائے، شکایت یا محرومی کا احساس ان کے اندر باقی نہ رہے اور پھر وہ زیادہ بہتر طور پر زندگی تعمیر کے قابل ہو جائیں۔ پسند، ناپسند زوجین کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1469)۔ یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ کرے، اگر اس کو اس کی ایک بات ناپسند ہو تو اس کے اندر دوسری بات ہوگی جو اس کی مرضی کے مطابق ہو۔ یہ شوہر اور بیوی کے تعلقات کے بارے میں ایک دانش مندانہ نصیحت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page