Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

نکاح کے ذریعہ ایک عورت اور ایک مرد کی یک جائی اس دنیا میں بننے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ طرفین کو اگر اس کا احساس ہو تو وہ اس کو ایک عظیم نعمت سمجھیں اور دونوں مل کر اتنا بڑا کام کریں جو انسانوں کی کوئی دوسری کمپنی نہیں کر سکتی۔ اس معاملے کی ایک مثال فرانس کے ایک جوڑے کی ہے۔ ان کا نام پیریے کیوری (وفات 1906) اور میری کیوری (وفات 1934) تھا۔ ان دونوں نے مل کر بہت اہم کام کیا۔ ماڈرن سائنس میں ان کا کام اتنا بڑا تھا کہ ان کو 1903 اور 1911 میں نوبل پرائز دیے گئے۔ یہی امکان ہر عورت اور ہر مرد کے لیے موجود ہے۔ اپنے اپنے میدان کے اعتبار سے ہر جوڑا یہی کام انجام دے سکتا ہے۔ فطرت نے ہر عورت اور ہر مرد کو اعلیٰ صلاحیت دی ہے۔ جو لوگ بھی جدوجہد کی مطلوب شرط کو پورا کریں، وہ اپنے اپنے دائرے میں اس قسم کی اعلیٰ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے عورت کا برتر رول، شعوری طور پر، نہ مشرقی دنیا دریافت کر سکی اور نہ مغربی دنیا۔ ایک حدیث ازدواجی رشتے کے بارے میں ایک جامع نصیحت حدیث رسول میں آئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ، أَوْ قَالَ: "غَيْرَهُ“ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1469)۔ یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر عورت کی ایک خصلت اس کو ناپسند ہو تو اس کے اندر کوئی دوسری خصلت موجود ہوگی جو اس کو پسند آئے۔ اصل یہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کے اندر ساری اچھی صفات پائی نہیں جاتیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ کسی کے اندر ایک صفت موجود ہوتی ہے تو اس کے اندر دوسری صفت موجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page