Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

عورت مجبور ہے کہ وہ اس قسم کا جذباتی اظہار کرے۔ اس لیے مرد جب ایسے موقع پر تعاون کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے لیے عبادت کا ایک معاملہ ہوتا ہے، یعنی اس نے فطرت کے قائم کردہ نظام کو رضامندی کے ساتھ قبول کیا۔ یہ بلاشبہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر خدا کے یہاں اس کو انعام دیا جائے گا۔ عورت کی تخلیق عورت کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّمَا مَثَلُ الْمَرْأَةِ كَالْضِلَعِ، اِنْ أَرَدْتَ إِقَامَتَهَا كَسَرْتَ، وَإِنْ تَسْتَمْتِعْ بِهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ، فَاسْتَمْتِعْ بِهَا عَلَى مَا كَانَ مِنْهَا مِنْ عِوَجٍ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر (4180)۔ یعنی بے شک عورت کی مثال پسلی جیسی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو تو وہ ٹوٹ جائے گی، اور اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو فائدہ اٹھاؤ گے، اور اس کے اندر ایک ٹیڑھا ہے۔ پس تم اس سے فائدہ اٹھاؤ، اس کے باوجود کے اس کے اندر ٹیڑھا ہے۔ اس روایت میں استمتّاع کا لفظ آیا ہے۔ استمتّاع کا لفظی مطلب ہے فائدہ اٹھانا۔ یہاں استمتّاع سے مراد ہی ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں بذریعہ ایڈ جسٹمنٹ فائدہ اٹھانا کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر تم عورت کے ساتھ ری ایکشن (reaction) کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ ایڈ جسٹ کرتے ہوئے زندگی گزارا تو تم کامیاب رہو گے۔ اس حدیث میں عوج (ٹیڑھ) سے مراد یہ نہیں ہے کہ عورت کے اندر کوئی تخلیقی کجی ہے۔ یہ دراصل تمثیل کی زبان ہے۔ اس حدیث میں ضلع (ٹیڑھ) کا لفظ تمثیل کے معنی میں آیا ہے۔ اس سے مراد وہ مخصوص مزاج ہے، جو عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے ۔ عورت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page