عورت کی تخلیق
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
فطری طور پر جذباتی (emotional) ہونا۔ یعنی عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ اسی جذباتی مزاج کو پسلی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حدیث میں شادی شدہ زندگی کا ایک کامیاب اصول بتایا گیا ہے۔ خالق نے عورت کو مرد کے ساتھی (partner) کے طور پر پیدا کیا ہے۔ لیکن مصلحت کا تقاضا تھا کہ عورت کے اندر sentimental مزاج رکھا جائے، اس مزاج کی بنا پر عورت کے اندر برداشت کا مادہ کم ہوتا ہے۔ وہ خلاف مزاج بات پر جلد جذباتی ہو جاتی ہے۔ مرد کو چاہیے کہ جب وہ دیکھے کہ عورت کسی معاملے میں جذباتی ہو گئی ہے تو مرد اس کو عورت کی فطرت کے خانے میں ڈال دے، مرد ایسا کرے کہ وہ اس کے جواب میں خود بھی جذباتی انداز اختیار کرے۔ اسی کو ایڈجسٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ اور اس معاملے کا عملی حل صرف ایک ہے، اور وہ ایڈجسٹمنٹ ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اس معاملے میں یک طرفہ طور پر ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ جذباتی مزاج کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو عقلی طور پر سوچنے سے پہلے بھڑک اٹھنا۔ کوئی بات مزاج کے خلاف ہو تو ٹھنڈے طریقے سے سوچے بغیر رائے قائم کر لینا۔ کسی بات پر اتنا شدید ہو جانا کہ سمجھنے سمجھانے کا دروازہ بند ہو جائے۔ کسی معاملے کو نتیجے کے اعتبار سے نہ دیکھنا، بلکہ صرف جذباتی پہلو سے سوچنا۔ اپنے کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھ لینا۔ اس قسم کی تمام باتیں جذباتیت (emotionalism) سے تعلق رکھتی ہیں۔ جو آدمی اس طرح کی جذباتیت کا شکار ہو جائے، اس کو صرف اپنے موافق بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی بات اس کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ جو بات اپنے مزاج کے خلاف نظر آئے، اس پر وہ سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے آدمی کو نرمی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کو سختی سے سمجھانا، ممکن نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader