کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مسئلے کا واحد حل ڈی کنڈیشننگ ہے اور ڈی کنڈیشننگ کا واحد طریقہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھلے ذہن سے ڈسکسشن کریں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ برابر انٹلیکچول ایکسچینج کریں۔ اسی کے ساتھ دونوں کے اندر اعتراف کا مزاج لازمی طور پر ضروری ہے۔ یعنی حقیقت کھل جانے کے بعد فوراً اس کو مان لینا اور فوراً یہ کہہ دینا کہ — اس معاملے میں غلطی پر تھا: I was wrong اپنی غلطی کو کھلے طور پر مان لینا، یہی اپنی ڈی کنڈیشننگ کا واحد کامیاب طریقہ ہے۔ باہمی اعتماد دو آدمی جب مل کر کام کریں تو کامیاب کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان کامل اعتماد ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے اوپر ہر اعتبار سے بھروسہ رکھتے ہوں۔ دونوں کے درمیان اجنبیت کی کوئی دیوار باقی نہ رہے۔ باہمی اعتماد کا یہ اصول شوہر اور بیوی کے درمیان انتہائی حد تک ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی گھر اچھا گھر نہیں بن سکتا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان کیوں ایسا ہوتا ہے کہ مطلوب قسم کا باہم اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔ دونوں کے درمیان اجنبیت کی ایک غیر محسوس دیوار مسلسل طور پر باقی رہتی ہے۔ اس نامطلوب صورت حال کی ذمہ داری عورت اور مرد دونوں پر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ عورت کی غلطی یہ ہے کہ وہ نکاح کے بعد اپنے ذہن کو نئے حالات کے مطابق نہیں بناپاتی۔ وہ بدستور اپنے میکے کو اپنا گھر سمجھتی رہتی ہے۔ اس کا اظہار بار بار اس کے رویے سے ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً جب وہ اپنے میکے کا ذکر کرے گی تو اس طرح کہے گی کہ میرے گھر میں ایسا تھا، یا میرے گھر میں ایسا ہوتا ہے۔ یہ چیز فطری طور پر مرد کو ناگوار ہوتی ہے۔ وہ شعوری یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader