کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر شعوری طور پر محسوس کرتا ہے کہ اس کے اور اس کے بیوی کے درمیان ایک قسم کی غیر یت موجود ہے، جو کسی طرح ختم نہیں ہوتی۔ دوسری طرف مرد کے اندر عام طور پر ایک کمزوری ہوتی ہے، جو مطلوب نوعیت کے باہمی اعتماد میں مسلسل طور پر رکاوٹ بنی رہتی ہے۔ وہ یہ کہ ہر مرد کے ذہن میں ایک مفروضہ عورت کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے، یہ مفروضہ مرد کے ذہن پر مسلسل طور پر چھایا رہتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنی موجودہ بیوی کے ساتھ مطلوب قسم کا باہمی اعتماد قائم نہیں کر پاتا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان باہمی اعتماد قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں اپنی اصلاح کریں۔ دونوں اپنے آپ کو مذکورہ قسم کے واہمہ (obsession) سے باہر نکالیں۔ دونوں یہ کریں کہ وہ خیالی دنیا میں جینے کے بجائے عملی حالات کے مطابق اپنا ذہن بنائیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو دونوں کے درمیان اپنے آپ باہمی اعتماد قائم ہو جائے گا۔ با مقصد انسان ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ دعوت کا کام کافی سرگرمی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک لڑکی کی شادی ایک نوجوان سے کی، جو کہ ایک مغربی ملک میں رہتے ہیں۔ شادی کے بعد لڑکی اپنے شوہر کے پاس چلی گئی ۔ وہاں وہ چند سال رہی۔ اس کے یہاں ایک بچہ بھی پیدا ہوا، مگر شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ آخر کار لڑکی غصہ ہو کر اپنے باپ کے پاس انڈیا آگئی۔ لڑکی کی زبان سے شکایتوں کو سن کر اس کے باپ نے یقین کر لیا کہ ان کی لڑکی بے خطا ہے اور سارا قصور اس کے شوہر کا ہے۔ مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ حالات سننے کے بعد میں نے کہا کہ اس معاملے میں آپ باپ کے دل سے بول رہے ہیں، آپ داعی کے دل سے نہیں بول رہے ہیں۔ انہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader