Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا کہ میں نے ٹیلی فون پر اپنے داماد کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ بہت سخت (adamant) ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ۔ میں نہیں بدلوں گا، آپ کی بیٹی کو میرے ساتھ ایڈجسٹ کرنا چاہیے ۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے اختلاف ہر شادی شدہ زندگی میں پیش آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ شوہر کے اندر بری عادتیں ہوں۔ مثلاً شراب پینا، وغیرہ ۔ دوسری قسم کا اختلاف وہ ہے جو مزاجی(temperamental) نوعیت کا ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق، آپ کے داماد میں پہلی قسم کی خرابی نہیں ہے۔ اس لیے آپ کو اسے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں لینا چاہیے ۔ موجودہ صورت میں آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی بیٹی کو سمجھائیے کہ تم اپنے شوہر سے ایڈ جسٹ کرو۔ تم گھر کی زندگی میں اپنے شوہر کو اپنا باس (boss) بنا لو۔ یہی واحد قابل عمل صورت ہے۔ اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ داعی ہیں۔ داعی ایک بامقصد انسان ہوتا ہے۔ اور بامقصد انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے مقصد کے سوا کسی اور چیز کو اپنا مسئلہ بنائے۔ آپ اپنی بیٹی کو سمجھا بجھا کر اس کے شوہر کے پاس بھیج دیجیے، ورنہ یہ بیٹی آپ کی مقصدی زندگی کا خاتمہ کر دے گی۔ اس کے بعد آپ صرف باپ کی حیثیت سے زندہ رہیں گے، نہ کہ داعی کی حیثیت سے ۔ جذباتیت بمقابلہ انانیت ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کے رشتے میں بندھ کر ایک ساتھ اکٹھا ہوتے ہیں تو یہ دونوں متضاد شخصیت کا اجتماع ہوتا ہے۔ عورت اپنی پیدائش کے اعتبار سے جذباتی (emotional) ہوتی ہے، اور مرد اپنی پیدائش کے اعتبار سے انانیت پسند (egoist)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page