کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
تحفظات (safeguard) رکھ دیتے ہیں۔ کسی عورت یا مرد کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ فطرت کے اندر پہلے سے موجود ان تحفظات کو جانے اور ان کو اپنی عملی زندگی میں استعمال کرے۔ فطرت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ خاموش زبان میں بولتی ہے۔ جو لوگ خاموش زبان کو سننے کی استعداد رکھتے ہوں، وہی لوگ فطرت کی اس آواز کو سنیں گے اور اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی کو کامیاب بنائیں گے۔ آرٹ آف فیلیر مینج منٹ ایک صنعت کار اپنی بیٹی کو لے کر میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔ جلد ہی ان کی شادی ہونے والی ہے۔ آپ دعا کیجیے کہ ان کی شادی شدہ زندگی (married life) کامیاب ہو۔ میں نے ان کی بات سنی اور پھر میری زبان سے نکلا: Every marriage is doomed to failure, except for the one who knows the art of failure management. یعنی ہر شادی کے لیے مقدر ہے کہ وہ نا کام ہو، سو اس کے جو ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا آرٹ جانتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم کو وہی آرٹ بتائیے۔ میں نے کہا کہ وہ آرٹ یہ ہے کہ آدمی شادی کو آئڈیل کی نظر سے نہ دیکھے، بلکہ پریکٹیکل کی نظر سے دیکھے اور پھر جو شادی اس کے حصہ میں آئی ہے اسی کو ممکن سمجھ کر اس پر راضی ہو جائے۔ شادی کے بعد عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ساتھی کو آئڈیل سے ناپتے ہیں۔ چوں کہ آئڈیل کا حصول ممکن نہیں، اس لیے ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ انہیں رائٹ جیون ساتھی نہیں ملا۔ شادی کے دونوں فریق اسی احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شادی کے نام پر ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا ہوتے ہیں، لیکن انہیں شادی یا خوشی کا کبھی تجربہ نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader