سختی یا عزم
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
منفی الفاظ میں آپ کسی بات کو سوچیں تو اس کے بارے میں معتدل انداز میں سوچنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے آپ کو اس بارے میں مثبت الفاظ استعمال کرنا چاہیے تاکہ آپ جو کچھ سوچیں، وہ مثبت ذہن کے تحت سوچیں ، نہ کہ منفی ذہن کے تحت ۔ میں نے کہا کہ آپ یہ کہیے کہ آپ کے شوہر کے اندر عزم (determination) کا مادہ ہے۔ وہ کسی چیز کے بارے میں سوچتے ہیں تو اٹل انداز میں سوچتے ہیں۔ یہ ایک مردانہ صفت ہے اور وہ بلاشبہ ایک اچھی صفت ہے۔ اگر یہ صفت نہ ہو تو آدمی ہمت کے ساتھ زندگی کے چیلنج کا سامنا نہیں کرسکتا۔ اور جو آدمی چیلنج کا سامنا نہ کر سکے، وہ کبھی زندگی میں کامیاب بھی نہیں ہو سکتا۔ مذکورہ خاتون کئی زبان جانتی تھیں اور وہ پروفیشن کے اعتبار سے ترجمان (interpreter) تھیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا پروفیشن چیلنجنگ پروفیشن نہیں ہے۔ اس پروفیشن میں نرم ہونا ایک اچھی بات ہے۔ آپ کا نرمی کا مزاج آپ کے پروفیشن کے عین مطابق ہے، مگر آپ کے شوہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر ہیں۔ اس کام میں ان کو ہر وقت چیلنج کا سامنا رہتا ہے۔ خدا نے آپ کو نرم بنایا ، تاکہ آپ اپنے پروفیشن کو کامیابی کے ساتھ کرسکیں۔ اس کے برعکس ، خدا نے آپ کے شوہر کو سختی کا مزاج دیا جو کہ ان کے پروفیشن کے اعتبار سے ضروری تھا۔ آپ کو چاہیے کہ اس تقسیم پر آپ شکر کریں، نہ کہ شکایت۔ معاملات میں مثبت رخ پر سوچنا آدمی کو مثبت نتیجے تک پہنچاتا ہے، اور منفی رخ پر سوچنا اس کو منفی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ اس اصول کا تعلق جس طرح زندگی کے دوسرے معاملات سے ہے، اسی طرح اس کا تعلق ازدواجی زندگی سے بھی ہے۔ اس اصول کو جاننا بلاشبہ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی کلید ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader