Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کا رویہ لوگوں کے ساتھ بالکل معتدل ہو جاتا ہے۔ زوجین کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس متضاد رویے سے بچائیں۔ اس کے بعد ان کی گھر کی زندگی بھی اسی طرح معتدل بن جائے گی، جس طرح ان کی باہر کی زندگی معتدل بنی ہوئی ہے۔ زندگی کے اکثر مسائل صرف بے شعوری کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو با شعور بنائیے، اور پھر آپ خود بخود غیر ضروری مسائل سے بچ جائیں گے۔ اپنے آپ کو بدلیے شادی بظاہر ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے وہ دو مختلف کلچر کے درمیان ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو والدین نہیں سمجھتے۔ وہ شادی کے صرف دوسرے پہلوؤں کو جانتے ہیں، اور ان دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے اپنے لڑکی کی شادی کر دیتے ہیں۔ بعد کو جب کلچرل فرق کی بنا پر زوجین کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں، تب بھی وہ اصل راز کو دریافت نہیں کر پاتے۔ دونوں فریق صرف یہ کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو برا بتاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ بیش تر شادیوں کا انجام یہ ہوتا ہے ۔ وقتی طور پر دھوم کے ساتھ شادی، اور پھر ہمیشہ کے لیے تلخ زندگی۔ لندن سے میرے پاس ایک مسلم خاتون کا ٹیلی فون آیا۔ ان کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ۔ اس کے بعد ان کی شادی ایک ایسے مسلم نوجوان سے ہوئی جس کی پیدائش لندن میں ہوئی تھی۔ خاتون نے ٹیلی فون پر بتایا کہ اُن کی شادی کو کئی سال ہو چکے ہیں، لیکن اُنھیں پر مسرت ازدواجی زندگی حاصل نہ ہوسکی۔ گفتگو کے دوران میں نے اُن سے صرف دو سوال کیے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے شوہر کردار (character) کے اعتبار سے کیسے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کردار کے اعتبار سے وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ دوسرا سوال میں نے یہ کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page