Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ آپ کے شوہر نے کبھی ایسا کہا کہ تم زیادہ بولتی ہو ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، ایسا تو وہ اکثر کہتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ کے مسئلے کی جڑ صرف ایک ہے۔ آپ پاکستانی کلچر کے مطابق ، زیادہ بولنے والی شخصیت(talkative person) ہیں، اور آپ کا شوہر برٹش کلچر کے مطابق، کم بولنے والا شخص (quiet person) ہے۔ یہی فرق آپ کے شوہر کے اندر بار بار جھلاہٹ (irritation) پیدا کرتا ہوگا۔ اسی چیز نے آپ کی ازدواجی زندگی کو تلخ بنا دیا ہے۔ آپ صرف یہ کیجیے کہ اپنے آپ کو بدلیے اور بہت کم بولنے کی عادت ڈالیے ۔ اس کے بعد مذکورہ خاتون نے ایسا ہی کیا اور ان کی زندگی ایک خوش گوار زندگی بن گئی۔ شادی کا مسئلہ ایک صاحب نے اپنی پسند کی ایک خاتون سے شادی کی۔ شادی کے کچھ دنوں بعد ان سے میری ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ شادی سے پہلے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرا ہوائی جہاز فضا میں اڑ رہا ہے۔ مگر شادی کے بعد ایسا معلوم ہوا جیسے کہ میرا جہاز کریش(crash) ہوگیا، اور میں جہاز کے ساتھ زمین پر گر پڑا۔ یہ ایک شخص کی بات نہیں۔ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے معاملے میں اکثر لوگوں کا احساس کم و بیش یہی ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ شادی سے پہلے عورت اور مرد دونوں کی دلچسپیاں اپنے خونی رشتوں سے ہوتی ہیں۔ شادی کے بعد ان کو غیر خونی رشتہ داروں سے تعلق بنانا پڑتا ہے۔ بچپن سے شادی کی عمر تک دونوں اپنے خونی رشتوں کے درمیان رہتے ہیں۔ اس بنا پر دونوں کو اپنے خونی رشتوں سے خصوصی لگاؤ ہو جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page