Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

شادی۔ اصل یہ ہے کہ کامیاب شادی کا تعلق کفو یا غیر کفو سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ طرفین شادی شدہ زندگی کو گزارنے کا آرٹ جانتے ہوں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ زوجین میں سے ایک نے اگر مشرقی تعلیم پائی ہے اور دوسرے کو اگر مغربی تعلیم ملی ہو، یا ایک امیر فیملی کا ہو اور دوسرا غریب فیملی کا، یا ایک گاؤں کا ہو اور دوسرا شہر کا، ایک سمارٹ ہو اور دوسرا غیر سمارٹ، ایک سفید فام ہو اور دوسرا سیاہ فام، ایک کی عمر زیادہ ہو اور دوسرے کی عمر کم، وغیرہ۔ زوجین کے درمیان اگر اس قسم کا فرق پایا جائے تو یہ نابرابری کی شادی ہے اور ایسی شادی کا نا کام ہونا مقدر ہے۔ مگر یہ ایک غلط مفروضہ ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ گھر کی حیثیت ایک مکمل ادارہ (institute) کی ہے۔ عام ادارے کی طرح، گھر کے ادارے کی بھی مختلف شعبے ہوتے ہیں۔ مذکورہ نابرابری کو بینج (manage) کرنے کا نہایت آسان طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں تقسیم کار کے اصول کو اپنا لیں۔ ہر ایک اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ایک شعبے کو لے لے اور اس کو اپنی صلاحیت کے مطابق آزادانہ طور پر چلائے۔ تقسیم کار کے اس اصول کی کامیابی کی شرط صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ دونوں فریق یہ بات طے کر لیں کہ انہیں اپنے آپ کو صرف اپنے شعبے تک محدود رکھنا ہے، کسی ایک کو دوسرے کے شعبے میں مداخلت نہیں کرنا ہے۔ نابرابری کے نکاح کا حل تقسیم کار ہے۔ اس کے سوا کوئی اور فارمولا اس مسئلے کا حل نہیں۔ بے مقصد زندگی ایک سفر میں میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی ۔ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ان کا مکان کافی بڑا تھا۔ لیکن اس میں دو کے سوا کوئی اور فرد موجود نہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page