Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ جب کہ شادی کے بعد دونوں کو اپنے غیر خونی رشتہ داروں کے ساتھ نباہ کرنا پڑتا ہے ۔ دونوں ، شعوری یا غیر شعوری طور پر ، اپنے آپ کو اس فرق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر پاتے۔ اس بنا پر طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ اور شادی عملاً پرابلم میرج (problem marriage) بن جاتی ہے ۔ اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ خونی رشتوں اور غیر خونی رشتوں کا فرق ختم ہو ۔ یہ ایک فطری فرق ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا ۔ اس مسئلے کا عملی حل صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ دونوں شعوری طور پر یہ جان لیں کہ وہ ایک فطری مسئلہ سے دوچار ہیں۔ جس کو وہ ختم نہیں کر سکتے ۔ دونوں اگر شعوری طور پر اس بات کو جان لیں تو ان کے اندر ایڈ جسٹ منٹ (adjustment) کا مزاج پیدا ہوگا ۔ ان کے اندر یہ سوچ بیدار ہو جائے گی ۔ جس مسئلے کو ہم بدل نہیں سکتے اس کو ہمیں نبھانا چاہیے ، اس کے ساتھ ہمیں ایڈ جسٹ کر کے رہنا چاہیے ۔ اس فرق کا ایک مثبت پہلو ہے ۔ یہ فرق آدمی کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچاتا ہے ۔ اس بنا پر آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک کے بغیر جاری رہتا ہے ۔ برابری میں نکاح عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ نکاح ہمیشہ کُفو میں ہونا چاہیے ، غیر کُفو میں نہیں۔ یعنی برابری کے رشتوں میں نکاح ہو تو دونوں کے درمیان آسانی کے ساتھ نباہ ہوگا ، اور اگر دونوں میں معاشی اور خاندانی اعتبار سے نابرابری ہو تو شوہر اور بیوی دونوں ہمیشہ پریشان رہیں گے ۔ مگر یہ صرف ایک مفروضہ ہے ۔ نتیجے کے اعتبار سے دیکھا گیا ہے کہ نام نہاد کُفو کے درمیان شادی بھی اتنائہی مسائل کا شکار رہتی ہے جتنا کہ نام نہاد غیر کُفو کے درمیان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page