Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

گھر: بہتر انسان بنانے کا کارخانہ

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

لیکن ایڈیسن کی ماں نے یہاں ایک تعمیری رول ادا کیا۔ اس نے ایڈیسن کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ تم ایک معذور بچے نہیں ہو بلکہ یہ معذوری تمہارے لیے ایک چیلنج ہے۔ تم اپنی فطری صلاحیتوں کو استعمال کرو اور اس چیلنج کا مقابلہ کر کے تم ایک کامیاب انسان بن سکتے ہو۔ ماں نے ایڈیسن کی تعلیم کو اپنا مشن بنا لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایڈیسن کا نام تاریخ میں ایک بڑے سائنس داں کی حیثیت سے درج کیا گیا۔ اسی طرح ایک سوچ یہ ہے کہ جو آدمی دولت مند گھرانے میں پیدا ہوا، اس کو خوش قسمت سمجھا جاتا ہے۔ اور جو آدمی غریب گھر میں پیدا ہوا، اس کو بد قسمت انسان کہا جاتا ہے۔ یہاں ماں کا رول یہ ہے کہ اگر اس کا بچہ غریب گھر میں پیدا ہوا ہے تو وہ اس کو بتائے کہ غریب ہونا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ ایسی ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو زندگی کا یہ فلسفہ بتائے کہ دولت مند بچے کے پاس اگر دولت ہوتی ہے تو غریب بچے کے پاس بڑھا ہوا محرک (incentive) موجود ہوتا ہے۔ یہ محرک اس کی زندگی کی طاقت بن کر اس کا ساتھ دیتا ہے: If a rich person is born with a silver spoon in his mouth, the poor person is born with an incentive spoon in his mouth. ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو بتائے کہ ہر امیر بچے کے باپ اور دادا غریب ہی تھے، پھر وہ محنت کر کے امیر بنے۔ اسی طرح تم بھی محنت کر کے سب کچھ حاصل کر سکتے ہو۔ اسی طرح ایک اور فکری گمراہی ہے۔ ماں کو چاہیے کہ اس گمراہی سے وہ اپنے بچے کو باہر نکالے۔ وہ یہ کہ عام طور پر انسانی طبقات کو محروم اور غیر محروم (haves and have nots) میں تقسیم کیا جاتا ہے، مگر یہ ایک غلط ڈائناٹمی (wrong dichotomy) ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں ایک شخص محروم طبقے کا فرد ہوتا ہے، لیکن بعد میں وہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page