کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر محروم طبقے کا فرد بن جاتا ہے۔ مثلاً سی وی رمن، جی ڈی برلا، آبرائے، دھیروا مبانی، ڈاکٹر عبد الکلام وغیرہ۔ اس قسم کے ہزاروں لوگ ہیں جو اپنے بچپن میں بظاہر محروم طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن بعد کو وہ غیر محروم طبقے کے اعلیٰ فرد بن گئے۔ اس لیے اس دنیا میں صحیح ڈائٹائی محروم اور غیر محروم کی نہیں ہے، بلکہ امکانی غیر محروم اور واقعی غیر محروم (potential haves and actual haves) کی ہے۔ کسی انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز حوصلہ اور مثبت شعور ہے۔ ہر ایک پچھلی نسل کا فرض ہے کہ وہ اگلی نسل کو با حوصلہ اور باشعور بنا کر زندگی کے میدان میں داخل کرے۔ ایک باپ کی نصیحت عبد اللہ بن جعفر نے نکاح کے وقت اپنی لڑکی کو نصیحت کی: يَا بُنَيَّةَ إِيَّاكِ وَالْغَيْرَةَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ الطَّلَاقِ، وَإِيَّاكِ وَكَثْرَةَ الْمُعَاتَبَةِ فَإِنَّهَا تُورِثُ الضَّغِينَةَ (انساب الاشراف للبلاذری، جلد 2، صفحہ (50) ۔ یعنی اے میری بیٹی، تم غیرت سے بچو، کیونکہ وہ طلاق کا دروازہ کھولنے والی چیز ہے۔ اور تم غصہ اور ناراضگی سے بچو، کیونکہ اس سے کینہ پیدا ہوتا ہے۔ یہاں غیرت کا مطلب ہے: گھمنڈ، تکبر، خود ستائی، بد دماغی، اہنکار، تند خوئی، ضدی پن، وغیرہ۔ یہ بہترین نصیحت ہے جو ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے وقت کر سکتا ہے۔ شادی کے بعد لڑکی ایک غیر شخص کے گھر جاتی ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنے خونی رشتہ دار (ماں باپ، بھائی بہن، وغیرہ) کے درمیان رہ رہی تھی۔ اب وہ ایسے لوگوں کے درمیان جاتی ہے جن سے اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں۔ خونی رشتہ دار لڑکی کی ہر بات کو برداشت کرتے ہیں۔ وہ اپنے میکے میں اکڑ دکھا کر بھی بے قدر نہیں ہوتی۔ وہ غصہ دکھائے تب بھی لوگ اس سے بیزار نہیں ہوتے۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader