کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
سسرال کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ سسرال میں لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے وہ پیدائشی نرمی نہیں ہوتی جو میکے کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال میں اس کا ہر عمل ایک رد عمل پیدا کرتا ہے۔ میکے میں لوگ اس کی اکڑ کو نظر انداز کر دیتے تھے، مگر سسرال میں اس کی اکڑ کو لوگ اپنی یادوں میں رکھ لیتے ہیں۔ میکے میں لوگ اس کے غصہ کو بھلا دیتے تھے، مگر سسرال میں کوئی شخص اس کے غصہ کو بھلانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں سسرال میں نباہ کی واحد شرط یہ ہے کہ لڑکی اپنے مزاج کو نئے ماحول کے مطابق بنائے ۔ وہ ایسے عمل سے بچے جو نا موافق رد عمل پیدا کرنے والا ہو۔ کوئی بات اپنی پسند کے خلاف ہو تو اس کو گوارہ کرے۔ کسی بات سے اس کے دل کورنج پہنچے تو اس کو دل ہی دل میں ختم کردے۔ کسی سے امید کے خلاف سلوک کا تجربہ ہو تو اس کی اچھی تو جیہ کرکے اس کو دماغ سے نکال دے ۔ ایک لڑکی کے لیے سسرال میں کامیاب زندگی گزارنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ اس کے سوا سسرال کے مسئلہ کا کوئی دوسرا حل نہیں۔ آج کا باپ اپنی بیٹی کو یہ سبق دیتا ہے کہ سسرال میں اکڑ کر رہنا ورنہ لوگ تم کو دبا لیں گے۔ اس کے برعکس، پہلے زمانہ کے باپ اپنی بیٹی کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ سسرال میں نرمی کے ساتھ رہنا ورنہ لوگ تم کو ناپسند کریں گے۔ انہیں دو فقروں میں ماضی اور حال کے فرق کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ ماں باپ کا رول میرے تجربے کے مطابق، شادی کے ناکام ہونے کا سب سے بڑا سبب لڑکی کے ماں باپ کا غلط رول ہے۔ میں نے پایا ہے کہ ماں باپ شادی کے وقت تو خوب دھوم مچاتے ہیں۔ وہ اپنی استطاعت سے زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ فضول خرچی کا وہ کام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader