کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے اس سے نکاح کر دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے یہ سن کر کہا: میں نے اس معاملہ میں درداء کا لحاظ کیا۔ درداء کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے، جب اس کے سرہانے خصی غلام کھڑے ہوتے اور وہ ایسے گھروں کو دیکھتی جس میں اس کی آنکھیں چکا چوند ہو جائیں۔ اس میں اس وقت اس کا دین کہاں رہ جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مومن کو اپنی اولاد کے معاملہ میں کیسا ہونا چاہیے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اپنی اولاد کے دین و ایمان کی حفاظت کرے۔ وہ ان کے دنیا کے مستقبل سے زیادہ ان کے آخرت کے مستقبل کے لیے فکر مند ہو۔ سادگی ایک اصول حیات میرے تجربے کے مطابق، تقریباً تمام والدین کا یہ حال ہے کہ وہ سادگی کو ایک اصول حیات کے طور پر نہیں جانتے۔ کسی معاملے میں بطور مجبوری وہ سادگی کا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اپنے آزادانہ اختیار کے تحت وہ سادگی کا طریقہ اختیار نہیں کرتے۔ والدین کا یہ مزاج ان کے بچوں تک پہنچتا ہے۔ ان کے بچے بھی سادگی کو اصول حیات کے طور پر دریافت نہیں کر پاتے۔ اور پھر اپنی پوری زندگی میں وہ اس کی بھاری قیمت ادا کرتے رہتے ہیں۔ سادگی کیا ہے۔ سادگی یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اس مقصد کو وہ اپنی زندگی میں اولین اہمیت دے۔ اس کے سوا ہر چیز کو وہ ثانوی (secondary) درجے میں رکھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader