ایک واقعہ
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
درمیان طلاق کرا دی جائے۔ آج شام کو طلاق نامے پر دستخط ہونے والے ہیں۔ آپ دعا کیجیے کہ طلاق کے بعد میری بہن کی زندگی خوشگوار رہے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنی بہن سے کہیے کہ وہ مجھ سے بات کریں۔ اس کے بعد ان کی بہن سے ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے اور آپ کے شوہر کے درمیان کیا اختلافات ہیں۔ انہوں نے کچھ باتیں بتائیں۔ میں نے کہا کہ آپ جو کچھ بتا رہی ہیں، وہ کوئی اہم بات نہیں۔ وہ اختلافات کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کی بڑھتی ہوئی حساسیت کا مسئلہ ہے۔ بعض چیزوں کے بارے میں آپ غیر ضروری طور پر حساس ہو گئی ہیں۔ آپ اپنی اس حساسیت پر کنٹرول کیجیے۔ آپ یہ ذہن ختم کر دیجیے کہ ”میں ہی کیوں ان کی بات مانوں، ان کو بھی میری بات ماننا چاہیے۔“ میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے ان سے کہا کہ زندگی دو طرفہ (bilateral) بنیاد پر نہیں چلتی، بلکہ زندگی ہمیشہ یک طرفہ (unilateral) بنیاد پر چلتی ہے۔ آپ اس معاملے میں کوئی استثناء نہیں ہیں۔ اسی اصول کو قرآن میں قوامیت (4:34) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح ہر کمپنی میں اور اجتماعی ادارے میں ایک ناظم یا باس (boss) ہوتا ہے اسی طرح گھر کے اندر بھی ایک فرد کو ناظم، یا باس (boss) کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ یہ ایک فطری اصول ہے۔ اس کا تعلق صنفی برابری یا صنفی ناہمواری سے نہیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو گھر کے اندر نظم قائم نہ ہو سکے گا۔ اور نظم کے بغیر کسی ادارے میں ترقی ممکن نہیں۔ مذکورہ خاتون نے میری بات مان لی اور باہم مل کر رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے طلاق کے مطالبے کو واپس لیتے ہوئے اپنے شوہر سے کہہ دیا کہ میں آپ کو اپنا باس مانتی ہوں اور کسی شرط کے بغیر آپ کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کا نتیجہ مثبت شکل میں نکلا۔ اب وہ دونوں اپنے گھر میں خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader