Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

لڑکی کے لیے اپنی ماں کا یہ جواب اس کی امیدوں کے سراسر خلاف تھا۔ اس جواب کوسن کرو رونے لگی اور چند دن تک وہاں اسی حال میں رہی۔ اس کی ماں نے کہا کہ۔ تم چاہے روؤیا چلاؤ، میں نے اپنا جواب تم کو بتا دیا۔ میرا جواب بدلنے والا نہیں۔ ماں کا جواب لڑکی کے لیے ایک دھما کے سے کم نہ تھا، لیکن اس دھما کہ خیز جواب نے لڑکی کے اندرونی سوچ پیدا کر دی۔ اسی دوران لڑکی کو راقم الحروف کی کتاب ” راز حیات “ (صفحات 292) مل گئی۔ اس کو اس نے پڑھا۔ کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ اس کی ماں نے جو کچھ کہا تھا، وہی اس معاملے میں صحیح بات ہے۔ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ مل جل کر رہنا ہے۔ اب میرے لیے اس کے سوا کوئی اور انتخاب (option) نہیں ہے۔ اس طرح وہ لڑکی چند دن سوچتی رہی۔ آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے شوہر کے پاس واپس چلا جانا چاہیے ۔ چنانچہ وہ کسی شرط کے بغیر اپنے شوہر کے پاس چلی گئی اور وہاں رہنے لگی۔ میں نے خود اپنے ایک سفر کے دوران دیکھا ہے کہ دونوں میاں اور بیوی خوشی سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے کامیاب رفیق حیات بنے ہوئے ہیں۔ اختلاف کا معاملہ ربر کی مانند ہے۔ آپ چاہیں تو اس کو کھینچ کر بڑھا دیں اور چاہیں تو اس کو نہ بڑھائیں اور اس کو اپنی فطری حالت پر رہنے دیں۔ ایک واقعہ ایک روز انڈیا کے ایک شہر سے میرے پاس ٹیلی فون آیا۔ ایک مسلم خاتون ٹیلی فون پر بول رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میری بہن اور ان کے شوہر کے درمیان شادی کے بعد اختلافات پیدا ہو گئے جو حل نہ ہو سکے ۔ اب آخری طور پر یہ طے کیا گیا ہے کہ دونوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page