Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

لاڈ پیار (pampering) ایک پورے کلچر کا نام ہے۔ اس کا اظہار ہر معاملے میں ہوتا ہے۔ مثلاً بچے کی ہر خواہش پوری کرنا، بچے کی ہر غلطی کو یہ کہہ کر ٹال دینا کہ ابھی بچہ ہے، بڑا ہو ہونے پر ٹھیک ہو جائے گا۔ اپنی اولاد کو معصوم سمجھنا اور ہر معاملے میں دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ کھانے پینے کے معاملے میں بچے کی ہر مانگ پوری کرنا، خواہ اس کی صحت خراب ہو جائے۔ بچے کو کوئی کام نہ کرنے دینا۔ اپنے بچے کو ہمیشہ اچھا سمجھنا اور دوسروں کو غلط بتانا۔ اپنے بچے کو آرام کا عادی بنانا۔ اپنی اولاد کو زندگی کی جدوجہد سے دور رکھنا۔ جھوٹی محبت کی بنا پر بچوں کے لیے ہر فیشن کی چیز فراہم کرنا۔ ان کو بچپن ہی سے فیشن کا عادی بنانا، وغیرہ۔ غیر فطری تمنا مشہور ہندوستانی سنگر محمد رفیع (وفات 1980) کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ وہ ہر ماں باپ کے دل کی دھڑکن بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع نے جب اس کو گایا تو وہ شدت تاثر سے روپڑے۔ اس گانے میں باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ اشعار کہتا ہے۔ اس کا حصہ یہ ہے: بابل کی دعائیں لیتی جا جا تجھ کو سکھی سنسار ملے میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے یہ بات فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی لڑکے یا لڑکی کو اس طرح ’سکھ اور پیار، نہیں مل سکتا۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کے سکھ اور پیار کو زوجین کے لیے کامیاب زندگی کا معیار بتانا، زوجین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں دونوں کے اندر غیر حقیقت پسندانہ ذہن بنتا ہے۔ اور غیر حقیقت پسندانہ ذہن کے ساتھ اس دنیا میں کامیاب ازدواجی زندگی گزارنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page