کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی غیر فطری معیار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ والدِین اور اُن کی بیٹی دونوں ہمیشہ اس احساس میں جیتے ہیں کہ اُن کی لڑکی کی شادی غلط ہو گئی ۔ دونوں اسی منفی احساس میں جیتے ہیں اور اسی منفی احساس میں مرجاتے ہیں۔ اگر لوگ زندگی کی حقیقت کو جانیں تو والدِین اپنی بیٹی کے بارے میں غیر فطری تمنا کرنے کے بجائے، اس کو نئے دورحیات کے لیے تیار کریں اور خود لڑکی جب نئے حالات میں پہنچے تو وہ اس کو مثبت ذہن کے ساتھ لے۔ وہ نئے حالات کو اپنے لیے فطرت کا ایک چیلنج سمجھے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال کر کے نئے حالات میں اپنے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر کرلے۔ زندگی ایک چیلنج ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔ جو لوگ اس حقیقت کو جانیں، وہ چیلنج کو ترقی کا ایک زینہ سمجھیں گے اور اس پر چڑھتے ہوئے اعلیٰ مراتب حیات تک پہنچ جائیں گے۔ سکھ مادی راحت کا نام نہیں۔ سکھ یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے مطابقت کاراز جان لے۔ میکے کے تصور میں جینا مشرقی خواتین میں ایک مزاج بہت عام ہے۔ نکاح کے بعد وہ اپنے سسرال آجاتی ہیں۔ لیکن نفسیاتی اعتبار سے بدستور وہ اپنے میکے میں جیتی رہتی ہیں۔ جسمانی اعتبار سے وہ سسرال میں ہوتی ہیں، لیکن ذہنی اعتبار سے وہ بدستور اپنے میکے کی یادوں میں گم رہتی ہیں۔ خواتین کا یہ مزاج ایک غیر حقیقی مزاج ہے۔ اس غیر حقیقی مزاج کی بھاری قیمت ان کو یہ دینی پڑتی ہے کہ وہ اپنی سسرال میں غیر ضروری طور پر پریشان رہیں، ان کو کبھی سکون کی زندگی حاصل نہ ہو۔ خواتین کے اندر اس غیر حقیقی مزاج کی اصل ذمہ داری ان کے والدِین پر ہے۔ والدِین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader