Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

لیٹ جائے تو ایسا واقعہ فوراً ایک مسئلہ بن جائے گا۔ اب کہا جائے کہ بہو بہت بدتمیز ہے۔ اس کے ماں باپ نے اس کو ادب نہیں سکھایا، وغیرہ۔ اس صورتِ حال کی ذمہ داری ماں اور بہو دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ ماں اگر اپنی بہو کو اپنی بیٹی سمجھے، اور بہو اگر اپنی ساس کو اپنی ماں جیسا درجہ دے تو یہ سارا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور ساس اور بہو اسی طرح خوش گوار ماحول میں رہنے لگیں گی جس طرح ماں اور بیٹی خوش گوار ماحول میں رہتی ہیں۔ یہ فطرت کا ایک نظام ہے کہ ہر بیٹی کو آخر کار بہو بن کر رہنا پڑتا ہے اور ہر ماں کے ساتھ ایسا پیش آتا ہے کہ وہ ساس بن کر اپنے گھر میں رہے۔ یہ خالق کا بنایا ہوا فطری نظام ہے۔ ہر عورت اور ہر لڑکی کو اس نظام کے ساتھ موافقت کرنا چاہیے۔ جو عورت اور جو لڑکی اس نظام کے ساتھ موافقت نہ کرے، وہ گویا کہ اپنے خالق کے ساتھ سرکشی کر رہی ہے۔ اس قسم کا معاملہ سادہ طور پر انسان اور انسان کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ انسان اور خالق کے درمیان کا معاملہ ہے۔ معاملے کا یہ پہلو تقاضا کرتا ہے کہ لوگ اس معاملے میں انتہائی حد تک سنجیدہ بنیں۔ وہ ایسا کام نہ کریں جو خالق کو ناراض کرنے کا سبب بن جائے۔ انسان کو ناراض کرنا صرف اپنے جیسے ایک انسان کو ناراض کرنا ہے، لیکن خالق کو ناراض کرنا گویا کہ پوری کائنات کے خلاف جنگ کا اعلان کرنا ہے۔ پھر کون ہے جو پوری کائنات کے ساتھ جنگ کرے اور پھر بھی وہ کامیاب ہو۔ گھریلو جھگڑے اکثر گھروں میں اہل خاندان کے درمیان جھگڑے جاری رہتے ہیں۔ یہ جھگڑے زیادہ تر نفسیاتی ہوتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں ان کا کوئی مادی سبب نہیں ہوتا۔ لوگ اگر صبر و

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page