گھریلو جھگڑے
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
اعراض کی حکمت جان لیں تو اس قسم کے جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ ہر گھر امن کا گھر بن جائے۔ ایک مشترک خاندان کی مثال ہے۔ وہاں دو بہوئیں ایک ساتھ رہتی تھیں۔ دونوں کے کام کے لیے دو الگ الگ خادما ئیں تھیں۔ دونوں خادماؤں کے درمیان فطری طور پر کبھی کبھی تکرار ہو جاتی تھی۔ ایک بار ایسا ہوا کہ تکرار کے دوران ایک خادمہ نے دوسری خادمہ کو کہہ دیا کہ تمہاری بی بی جی تم کو کچھ نہیں بولتیں اس لیے تم شیطان ہوگئی ہو۔ خادمہ نے اپنی مالکہ سے اس کو نقل کیا تو بات کچھ بدل گئی۔ اس نے اس بات کو ان لفظوں میں نقل کیا: وہ کہہ رہی تھی کہ تمہاری بی بی جی نے تم کو شیطان بنا دیا ہے۔ اس کے بعد اس خاتون نے اس بات کو جب اپنے شوہر سے نقل کیا تو بات کچھ اور بدل کر اس طرح ہوگئی: تم بھی شیطان، تمہاری بی بی جی بھی شیطان۔ یہ سن کر ان کا شوہر غصہ ہو گیا اور گھر میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔ دونوں بہوئیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔ گھر کا سکون درہم برہم ہو گیا۔ اس طرح کے معاملات میں پہلا بہتر طریقہ یہ ہے کہ آدمی ان کو نظر انداز کر دے۔ وہ سنی ہوئی بات کا کوئی اثر نہ لے اور نہ اس کو دوسرے سے نقل کرے ۔ یہ رویہ اگر اختیار کیا جائے تو مسئلہ سرے سے پیدا ہی نہ ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سننے والا صرف ایک پارٹی کی بات سن کر کوئی رائے نہ بنائے ۔ وہ غیر جانبداری کے ساتھ پہلے دونوں پارٹی کی بات سنے اور اس کے بعد ٹھنڈے طریقہ سے ایسی رائے قائم کرے جو انصاف کے مطابق ہو۔ وہ اصل بات کو گھٹانے یا بڑھانے کی غلطی نہ کرے بلکہ بات کو ویسا ہی لے جیسا کہ وہ ہے۔ ان دو طریقوں کے سوا ہر دوسرا طریقہ فساد پیدا کرنے والا ہے، وہ آخر کار پورے خاندان میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader