عورت کا درجہ
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت کا درجہ اسلام میں عورت کا درجہ کیا ہے، اس کا اندازہ ایک حدیث سے ہوتا ہے۔ حضرت بریرہ ایک لونڈی تھی، اور اس کے شوہر ایک غلام تھے جس کا نام مغیث تھا۔ بریرہ آزاد ہوگئی تو اسلامی اصول کے مطابق، اس نے اپنے شوہر مغیث سے تفریق کرا لی۔ اس کے بعد جو ہوا، حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے: گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مغیث اپنی بیوی کے پیچھے چل رہے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عباس، کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ مغیث کو کتنی زیادہ محبت ہے بریرہ سے اور بریرہ کو کتنا زیادہ بغض ہے مغیث سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ تم مغیث کی طرف رجوع کر لو۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے جواب دیا: تو مجھے اس کی ضرورت نہیں (لا حَاجَةَ لِي فِيهِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 5283۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو مشورہ دیا کہ تم رجوع کر لو اور مغیث کے ساتھ زندگی گزارو مگر بریرہ نے آپ کے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا۔ اور مغیث سے رجوع پر راضی نہیں ہوئیں ۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اس کے مطابق، عورت نہ صرف مرد کے برابر ہے بلکہ اس کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ خود پیغمبر اگر وحی کی بنیاد پر کوئی مطالبہ کرے تو وہ اس کو ماننے پر مجبور ہے، لیکن پیغمبر کے ذاتی مشورہ کو ماننا اس کے لیے ضروری نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس اعتبار سے عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader