Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ۔ جو حقوق و فرائض مرد کے ہیں وہی حقوق و فرائض عورت کے بھی ہیں۔ اگر کوئی فرق ہے تو وہ فطری سبب کی بنا پر ہے ، نہ کہ دونوں جنسوں میں تفریق کی بنا پر ۔ اس قسم کا فطری فرق جس طرح عورت اور مرد کے درمیان ہے اسی طرح وہ خود مرد اور مرد کے درمیان بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ یہ فطرت کا معاملہ ہے ، نہ کہ فرق کا معاملہ ۔ عورت کا مقام عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام گھر سنبھالنا ہے۔ مرد کا درجہ قوّامیت کا درجہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مرد کمانے والا فرد ہے۔ اس اصول کا ماخذ قرآن کی یہ آیت ہے : الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ (4:34)۔ یعنی مرد، عورتوں کے اوپر قُوّام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کیے ۔ راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ عورت کے بارے میں یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے۔ خود آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے اصل الفاظ یہ ہیں: وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ (اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کیے ) ۔ اگر اس آیت کا حتمی مفہوم ہوتا ہے تو الفاظ مختلف ہونا چاہیے تھا۔ مثلاً یہ کہ وَبِمَا يُنْفِقُونَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ (اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں یا کریں گے ) ۔ اس اسلوب کی بنا پر اس آیت میں تاویل کی گنجائش موجود ہے۔ آیت کے الفاظ پر غور کرنے کے بعد راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہ جملہ ( sentence) عورت کے بارے میں کسی حکم شرعی کو نہیں بتاتا ، بلکہ وہ صرف یہ بتاتا ہے کہ معاشرتی حالات کے لحاظ سے عورت کا سماج میں ایک کردار یہ بھی ہے۔ موجودہ زمانے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page