Urdu book · کاروانِ ملّت

مسائل ملت

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ انھیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ہیں سال کے مختصر عرصہ میں تمام عرب قبیلوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جو لوگ بنٹا ہر آپ کے دشمن تھے، وہ آپ کے دوست اور ساتھی بن گئے۔ اسلام کے سپاہی بن کر انھوں نے اسلام کی عالمی تاریخ بنائی۔ ۱۳ ویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل ایک وحشی طوفان بن کر اٹھے اور انھوں نے سمر قند سے لے کر بغداد تک مسلمانوں کے تمام ملی نشانات کو مٹا ڈالا۔ بعد اد کی عباسی خلافت ان کی فو جی یلغار کی تاب نہ لا کر ختم ہوگئی۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ مسلمانوں کے قومی کھنڈر سے اسلام کی دعوتی قوت ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ اسلام کے عقیدہ نے فاتح تاتاریوں کو مسخر کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ پچاس برس میں پوری تاریخ بدل گئی۔ مسلمانوں کے فاتح اسلام کے مفتوح بن گئے۔ ہلاکو نے مسلم دنیا کی جن مسجدوں کو ڈھایا تھا، اس کے پوتوں نے ان مسجدوں کو دوبارہ بنایا۔ اور ان مسجدوں میں خدائے واحد کے سامنے جھک کر اپنے عجز کا اعتراف کیا۔ اسلامی تاریخ کا یہی واقعہ ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ میں آل انڈیا مسلم لیگ (الہ آباد) کے اجلاس میں اپنا خطبہ صدارت پڑھتے ہوئے اس طرح کیا تھا کہ۔ مسلمانوں کی تاریخ سے مجھے یہ سبق ملا ہے کہ ان کی تاریخ کے نازک موقع پر یہ اسلام تھا جس نے مسلمانوں کو بچایا یا نہ کہ مسلمانوں نے اسلام کو : One lesson I have learnt from the history of Muslims. At critical moments in their history it is Islam that has saved Muslims and not vice versa. یہی بات اقبال نے عوامی انداز میں اپنے اس شعر میں کہی ہے : ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے اس حقیقت کو ماضی کے اعتبار سے سمجھا۔ مگر اس کو انھوں نے حال کے اعتبار سے دریافت نہیں کیا۔ انھیں یہ تو دکھائی دیا کہ گزرسی ہوئی تاریخ میں اسلام کی دعوتی طاقت نے مسلمانوں کو بچایا ہے مگر حال کے اعتبار سے وہ اس طاقت کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ۱۹۳۰ میں جغرافی تقسیم کو ہندوستان کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل بتایا۔ حالاں کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page