مسائل ملت
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
انھیں ضرورت ہے۔ اقتصادی اعتبار سے اسلام کے ذرائع لامحدود ہیں۔ سماجی اعتبار سے مسلمان پورے انڈیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مسلمان ملک کے ہر صوبے میں موجود ہیں اور وہ پست طبقات کے نو مسلموں کی پوری مدد کر سکتے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے پست طبقات وہ تمام حقوق پالیں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں: واقعات بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر امبیڈکر اسلام کے بالکل قریب آچکے تھے اور عین ممکن تھا کہ وہ اپنی پوری برادری کے ساتھ اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو جائیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ۱۳ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو وہ اعلان کیا جس کو ایولاڈیکلریشن (Yeola Declaration) کہا جاتا ہے۔ اس اعلان میں انھوں نے ۴۰ ملین ہریجنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے موجودہ مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں داخل ہو جائیں (صفحہ ۳۳۲) مگر مسلم لیڈروں میں سے کسی بھی قابلِ ذکر شخص نے ڈاکٹر امبیڈ کر کی طرف توجہ نہ کی۔ حتیٰ کہ کسی نے ان سے ملاقات کی ضرورت بھی نہ سمجھی۔ دوسری طرف عین اسی زمانہ (۱۹۳۰ء اور ۱۹۴۰ء کے درمیان) مسلمانوں نے بحیثیت قوم یہ مظاہرہ کیا کہ انھیں ملک کی تقسیم کے سوا کسی اور چیز سے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ مسلم رہنماؤں نے ہریجنوں کو اسلام کے سایۂ رحمت میں داخل کرنے سے کوئی حقیقی دل چسپی نہ لی۔ انھوں نے اپنی ساری دل چسپی اس بات کے لئے دکھائی کہ ملک سیاسی اعتبار سے دو حصوں (ہند و انڈیا، مسلم انڈیا) میں بانٹ دیا جائے۔ مسلمانوں کی یہ قومی پالیسی ڈاکٹر امبیڈ کر کی امیدوں کے سراسر خلاف تھی۔ انھوں نے قدرتی طور پر یہ سمجھا کہ بٹوارہ کے بعد وہ اور ان قوم ہندو انڈیا میں باقی رہے گی۔ کیونکہ ہریجن زیادہ تر اسی علاقہ میں آباد تھے۔ تقسیم کے بعد مسلمان اس حیثیت میں نہ ہوں گے کہ وہ ان کی کوئی مدد کر سکیں۔ دوسری طرف وہ تبدیلی مذہب کے نتیجہ میں مستقل طور پر ہند و غضب ناکی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader