Urdu book · کاروانِ ملّت

مسائل ملت

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ انہوں نے اسلام کے دائرہ میں داخل ہونے کا ارادہ ترک کر دیا۔ مسلم رہنماؤں میں اگر دعوتی ذہن ہوتا تو وہ سمجھتے کہ پست طبقات کو اسلام میں داخل کر کے اگر وہ ان کا درجہ اونچا کریں تو یہ خود ان کے لئے بھی حد درجہ مفید ہوگا۔ اس کے بعد ان کی آبادی ملک میں مجموعی طور پر تقریباً ۵۰ فی صد ہو جائے گی۔ اور اگر آئندہ تبلیغی عمل کو جاری رکھا جائے تو قریبی مستقبل میں وہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی کہ وہ ”پاکستان“ کی صورت میں اپنے لئے سیاسی پناہ کا ایک گوشہ تلاش کریں۔ مگر مسلم رہنماؤں کے غیر قرآنی ذہن کا یہ نقصان ہوا کہ انھیں قومی خطرات دکھائی دئے مگر انھیں دعوتی امکان نظر نہ آیا۔ دعوت الی اللہ سے عصمت من الناس کا فائدہ حاصل ہونا اتنا یقینی ہے کہ وہ کسی براہ راست کوشش کے بغیر اپنے آپ حاصل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ مسلمان اپنی کسی نادانی سے اس کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا سبب نہ بنیں۔ اس کا زندہ ثبوت ۱۹ ویں صدی اور پھر ۲۰ ویں صدی کے آغاز کی تاریخ ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس زمانہ میں اسلام نہایت تیزی کے ساتھ ہندوستان میں پھیل رہا تھا۔ ہر روز بلا مبالغہ ہزاروں آدمی اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ اگر اس عمل کو بدستور جاری رہنے دیا جاتا تو کسی اقبال یا جناح کی ضرورت نہ تھی جو بٹوارہ کی صورت میں مسلمانوں کے مسئلہ کا حل تجویز کرے۔ مگر پہلی عالمی جنگ (۱۸- ۱۹۱۴) کے بعد مسلمانوں میں جو قومی تحریکیں اٹھیں، جس کا آخری عروج آل انڈیا مسلم لیگ تھی، اس نے سارا نقشہ بگاڑ دیا۔ ان تحریکوں نے انتہائی غیر دانش مندانہ طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافی باتوں کو ابھارا۔ انھوں نے اپنی دھواں دھار کارروائی کے ذریعہ دونوں قوموں میں نفرت کی ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی۔ مسلم لیڈروں کی یہی نفرت انگیز سیاست ہے جس نے اسلام کی اشاعت کے اس سیلاب کو روک دیا جو مغل سلطنت کے زوال کے بعد انیسویں صدی میں اس ملک میں جاری ہوا تھا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو مستقبل کی تعمیر کے لئے دو میں سے ایک کام کرنا تھا۔ یا تو وہ سچے داعی بن کر دوسری قوموں کو اپنا مدعو بناتے اور صبر اور حکمت کے ساتھ انھیں اسلام کی دعوت دیتے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے تو دوسرا کام ان کے کرنے کا یہ تھا کہ وہ اسلام کی فطری اشاعت کے عمل میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page