Urdu book · کاروانِ ملّت

مسائل ملت

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کامیاب ہوسکتے : مذہبی طبقہ اگر سچے مذہب پر ہو تو وہ انصاف پر کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ مگر جب مذہبی طبقہ میں بگاڑ آ جائے تو اس کے پاس تعصب کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی جس پر وہ اپنے آپ کو کھڑا کر سکے۔ ہندوؤں کا موجودہ مذہبی طبقہ حقیقۃً ایک بگڑا ہوا اندہی طبقہ ہے، اس لئے اس کا مذہب تمام تر تعصب پر مبنی ہے۔ وہ مذہبی سچائی پر نہیں بلکہ مسلم عناد کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ ہندو عوام کا معاملہ بھی ایک اور اعتبار سے یہی ہے۔ ہندو عوام کی اکثریت جاہل اور غریب ہے۔ وہ ایک بے شعور انسانوں کی بھیڑ ہے۔ ایسے لوگوں کو کوئی بھی شوشہ کی بات کہہ کر بھڑکایا جا سکتا ہے ۔ اس کی ایک قریبی مثال یہ ہے کہ ہندو عوام پچھلی نصف صدی سے زیادہ تر کانگریس کو ووٹ دیتے آرہے تھے۔ مگر ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ کو ہونے والے الیکشن میں فرقہ پرست ہندوجماعتوں نے اپنے عوام کو یہ کہہ کر بھڑکایا کہ راجیو گاندھی ایک سیکولر آدمی ہے۔ وہ خود پارسی کا لڑکا ہے، اور ایک عیسائی عورت سے شادی کئے ہوئے ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے اجودھیا میں مقدس رام مندر کی تعمیر نہیں ہوسکتی۔ یہ سن کر شمالی ہند کے ہندو بھڑک گئے اور انہوں نے مخالفانہ ووٹ دے کر راجیو گاندھی کی پارٹی کو شمالی ہند میں ہرا دیا۔ ان اسباب سے مسلمانوں کے لئے عقل مندی کی بات یہ ہے کہ وہ اختلافی معاملات کو ہندو خواص کی سطح پر لا کر حل کریں۔ وہ اس کو ہندو عوام (مذہبی طبقہ اور عوامی طبقہ) تک نہ جانے دیں۔ موجودہ ہندو قوم میں دو مختلف طبقے کا ہونا قرآن کے اس اصول کے عین مطابق ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ عمر کے ساتھ یسر موجود رہتا ہے۔ ہندوؤں کا فرقہ پرست طبقہ اگر مسلمانوں کے لئے عسر کے درجہ میں ہے، تو انہیں ہندوؤں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ مسلمانوں کے لئے یسر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذہبی طبقہ کے اندر اگر مسلمانوں کے خلاف تعصب وعناد ہے ، تو تعلیم یافتہ طبقہ اپنی روشن خیالی کی بنا پر مسلمانوں کے معاملہ میں انصاف کا اور حقیقت پسندی کا فیصلہ کرتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page