مسائل ملت
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
مزید یہ کہ قانون الہی کے مطابق ، یہاں بھی عصر کے مقابلے میں یسیر کی طاقت زیادہ ہے۔ ہندوؤں کے فرقہ پرست طبقہ کے پاس صرف جذباتی نعرے ہیں۔ دوسری طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا حال یہ ہے کہ وہی ہر قسم کے علمی، انتظامی، اقتصادی اور صحافتی اداروں پر قابض ہے۔ اعلیٰ سطح کے تقریباً تمام فیصلے اسی کے دفتروں سے کئے جاتے ہیں۔ دو مسجدوں کا قصہ یہاں میں ایک تقابلی مثال پیش کرتا ہوں۔ اس سے اس اصول کی صداقت خالص عملی اور واقعاتی سطح پر ثابت ہوتی ہے۔ یہ اجودھیا اور دہلی کی مسجد کی مثال ہے۔ بابری مسجد (اجودھیا) کا مسئلہ اپنی موجودہ شکل میں ۱۹۸۶ میں پیدا ہوا ۔ اس کے بعد مسلمانوں نے مسلم رہنماؤں کی رہنمائی میں کیا کیا۔ وہ اس مسئلے کو سڑک پر لے آئے۔ جلسہ اور جلوس، ریلی اور مارچ، بائیکاٹ اور لاؤڈ اسپیکر کے شور کے ذریعہ انھوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ یہ طریقہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہندو عوام اور ہندو مذہبی طبقہ کی سطح پر مسئلہ کو حل کرنا تھا۔ چنانچہ وہ سراسر ناکام رہا۔ سڑک کی سیاست نے جوابی طور پر ہندوؤں میں اسی قسم کی شدید تر سیاست پیدا کی۔ ہندوؤں کے مذہبی طبقہ کو یہ موقع ملا کہ وہ جذباتی اپیلیں کر کے ہندو عوام کو بھڑکا دیں۔ انھوں نے ہندو عوام سے کہا کہ ۱۹۴۷ میں ملک کے بٹوارے کو مان کر ہم نے مسلمانوں کے مقابلہ میں پہلی شکست کھائی تھی، اب اجودھیا میں رام جنم بھومی کی تعمیر کے سوال پر ہم مسلمانوں سے دوسری شکست (second defeat) کبھی قبول نہیں کریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شمالی ہند کے ہندو عوام بھڑک اٹھے۔ جگہ جگہ خون ریز فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ عوامی ضد اور جوش نے مسئلہ کو پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔ جو چیز پہلے محدود ومقامی مسئلہ کی حیثیت رکھتی تھی وہ پورے ملک کے لئے قومی وقار کا مسئلہ بن گئی۔ مسلمانوں کو بابری مسجد تو حاصل نہیں ہوئی ۔ البتہ بہت سی چیزیں جو اس سے پہلے انھیں حاصل تھیں وہ بھی انھوں نے اپنے غلط طر یق کار کے نتیجہ میں کھو دیں۔ اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لئے راقم الحروف کا مضمون "حکیمانہ تدبیر" ملاحظہ فرمائیں )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader